خلیج کا بحران — Page 117
۱۱۷ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء ہو گئے اور ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے تو در حقیقت قرآن کریم کے بیان کے مطابق ان کا حبل اللہ سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے سوا کوئی دنیا کا نظام جمیعت پیدا نہیں کرتا۔فرقے تو آپ کو بہت سے دکھائی دیں گے مگر کسی فرقے میں بھی وہ جمیعت نہیں ہے جو نظام خلافت کے اندر آپ کو دکھائی دیتی ہے۔پس خلافت راشدہ کے بعد آپ دیکھیں کہ کس طرح امت بکھر نے لگی اور متفرق ہونے لگی اور وہ جمیعت جو آپ کو خلافت راشدہ کے وقت دکھائی دیتی تھی جب ایک دفعہ ٹوٹی تو پھر ٹوٹ کر بکھرتی چلی گئی اور ٹکڑوں پر ٹکڑے ہوتے چلی گئی۔پس یہ بہت ہی اہم مضمون ہے اسلام کا یعنی حقیقی اسلام کا۔صاحب شریعت نبی سے تعلق باندھو، اس کی ذات سے بھی تعلق باندھو اور اس کی شریعت سے بھی کیونکہ وہ عہد جو رسول سے ، صاحب شریعت رسول سے باندھا جاتا ہے وہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم اس شریعت کی اطاعت کریں گے جو تجھ پر نازل ہوئی بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس شریعت کی بھی اطاعت کریں گے اور تیری بھی اطاعت کریں گے پس صاحب شریعت نبی کے گزرنے کے بعد جمیعت کا تصور ہی نہیں پیدا ہوسکتا اگر خلافت جاری نہ ہو ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کے جانے کے بعد ہر شخص انفرادی طور پر حَبْلُ الله کو پکڑ لے اور یہی اس کے لئے کافی ہے۔حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا مل کرا کھٹے ہو کر تم نے حَبْلُ اللہ کو پکڑنا ہے۔پس منطقی طور پر کوئی اور راہ دکھائی نہیں دیتی سوائے اس کے کہ نبوت کے بعد خلافت جاری ہو اور جب خلافت ایک دفعہ بکھر جائے تو پھر دوبارہ نبوت کے ذریعے قائم ہوتی ہے خواہ وہ پہلی شریعت کی نبوت کا اعادہ ہو۔نئی شریعت نہ بھی آئے۔مگر دوبارہ آسمان سے حَبْلُ الله اترتی ہے اور پھر دوبارہ جمیعت عطا ہوتی ہے اس کے بغیر جمیعت نصیب نہیں ہوسکتی۔پھر فرمایا وَ اذْكُرُ وانِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ دیکھو اس وقت کو یاد کرو۔جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُم یہ اللہ تھا جس نے تمہارے دلوں کو آپس میں محبت کے رشتوں سے مضبوطی سے باندھ دیا۔فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ إِخْوَانًا تو یہ کیا