خلیج کا بحران — Page 111
۲۳ رنومبر ۱۹۹۰ء بھی عوامل انسان کی فطرت پر عمل پیرا ہوتے ہیں ان کا تجزیہ کر کے آپ دیکھ لیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر عمل کے نتیجے میں انسان کا رد عمل بالعموم توازن سے ہٹ کر ہوتا ہے اور جہاں بھی انسان توازن کھو بیٹھے وہاں تقویٰ کی راہ گم ہو جاتی ہے اور ایک باغیانہ حالت پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو مزید گہرائی میں جا کر اگر باریکی سے اس کا مطالعہ کریں تو یہ مضمون نہ صرف یہ کہ زندگی کے ہر لمحے پر حاوی ہے بلکہ ہر لمحے پر نگرانی کا طریق بتاتا ہے۔مثلاً ایک آدمی عام حالت میں بغیر کسی ہیجان کے بیٹھا ہوا ہے اور اس کو کئی قسم کی خبریں مل سکتی ہیں۔کئی قسم کے معاملات اسے پیش آسکتے ہیں۔ایک آدمی اس کو بلا وجہ غصہ دلا سکتا ہے، اس کے مزاج کے خلاف بات کر کے اور بلا وجہ چڑا کر یا ایک ایسی خبر دے کر جس سے اس کا نقصان ہوتا ہو اور بدتمیزی کے انداز میں دل دکھانے کی خاطر اس کو اگر کوئی بری خبر دے تو عام ایسی خبر کے نتیجے میں جو اثر ہے اس سے کہیں زیادہ شدت کا عمل پیدا ہوتا ہے اور جو ردعمل ہے اس میں اکثر انسانوں کا اختیار نہیں ہوتا کہ اس رد عمل کو متوازن رکھیں۔اگر ایک انسان کسی عمل سے کسی کو تکلیف دیتا ہے اور غصہ دلاتا ہے۔مثلاً ایک چیرہ کسی نے ماردی تو فور ارد عمل یہ ہوگا کہ میں اس کو دس چپیڑ میں ماروں۔ایک گالی دی تو ایک گالی کے جواب میں ایک گالی دے کر انسان رکتا نہیں بلکہ دس ، پچاس ،سو گالیاں دے کر بھی بعض کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا۔کسی کو ایک ٹھونکا لگا دیں تو وہ بعض دفعہ اتنی ذلت محسوس کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مار مار کر جب تک کچومر نہ نکال دے اس کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا تو یہ جور عمل کی حالت ہے وہ باغیانہ حالت ہے وہ سپردگی کی حالت نہیں۔اس حالت میں اگر کوئی جان دے دے تو وہ اسلام کی حالت میں جان دینے والا نہیں ہوگا۔اس سلسلے میں ایک لطیفہ حضرت مصلح موعودؓ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک بہت موٹا تازہ پہلوان اکھاڑے سے آرہا تھا، خوب مالش کی ہوئی ، سرمنڈھایا ہوا اور ٹنڈ کہتے ہیں جب بال بالکل نہ ہوں اور چکنی چپڑی کھوپڑی نظر آتی ہو تو اس کی ٹنڈ چمک رہی تھی ، اس کے پیچھے پیچھے ایک کمزور نحیف انسان جو اس کی پھونک کی مار بھی نہیں تھا وہ چلا آرہا تھا۔اس کو اس کا چمکتا ہوا صاف شفاف سرد یکھ کر شرارت سوجھی اور اس نے بھرے بازار میں اچھل کر اس کی ٹنڈ پر ایک ٹھونگا لگا دیا۔وہ جس کو ہم پنجابی