خلیج کا بحران — Page 104
۱۰۴ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء چھوٹے چھوٹے خطرات زیادہ قوت کے ساتھ ابھریں گے اور ان کو اب آتش فشاں پہاڑوں کی طرح جاگ کر آگ برسانے سے کوئی دنیا میں روک نہیں سکے گا کیونکہ جب دنیا کی بعض اور عظیم قوموں کے مفادات یہ چاہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں چھیڑ خانی چلی جائے۔غالب کہتا ہے: یار سے چھیڑ چلی جائے اسد گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی اب یہ جو بڑی تو میں آپس میں خوباں نہیں تھیں اس وقت بھی ان کی چھیڑ میں جاری تھیں۔اب ان کی صلح ہوگئی ہے تو یہ چھوٹی چھوٹی تو میں ان کے لئے خوباں بن گئی ہیں۔ان کے ساتھ وصل تو ان کو نصیب نہیں ہوسکتا۔حسرتوں کی چھیڑ خانی اب باقی رہ گئی ہے۔اب یہ جو مضمون ہے ، سو فیصدی تو کچھ شعر اطلاق نہیں پاتے اس لئے اسے کچھ تھوڑا سا حالات پر چسپاں کرنے کے لئے مجھے مولد Mold کرنا پڑے گا۔یہ حسرتوں کی چھیڑ خانی جب محبوب اور عاشق کے درمیان ہوتی ہے تو مارا تو ہمیشہ عاشق ہی جاتا ہے۔کیونکہ محبوب طاقتور ہوتا ہے اور عاشق کمزور ہوتا ہے۔معشوق کو عاشق پر ہمیشہ غلبہ رہتا ہے۔لفظوں کی تفریق ہی یہ بتا رہی ہے کہ معشوق وہ ہے جو عاشق پر حکومت کرے۔تو یہاں عشق اور معشوق کا معاملہ تو نہیں ہے مگر غلبے اور مغلوبیت کا معاملہ ضرور ہے۔طاقت اور کمزوری کا تعلق ضرور ہے۔پس یہاں اگر خوباں سے چھیڑ چلے گی تو حسرت ہمیشہ کمزور کے حصے میں آئے گی۔حسرت کبھی محبوب کے حصہ میں نہیں آیا کرتی حسرت ہمیشہ محبت کرنے والے کے حصہ میں آیا کرتی ہے۔پس بہت سی حسرتیں ایسی ہیں جو ہم کمزور، غریب قوموں کے حصے میں آنے والی ہیں اور چھیڑ خانی سے ان لوگوں نے بازنہیں آنا۔جماعت احمدیہ کا فرض اس لئے جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم سے دنیا کی سیاست کو روشناس کرائے اور جس ملک میں بھی احمدی بستے ہیں وہ ایک جہاد شروع کر دیں۔ان کو