خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 376

خلیج کا بحران — Page 85

۸۵ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء کوئی غیر معمولی طور پر شریف معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے ہماری درخواست پر پہلی دفعہ نہ صرف بغیر کسی تردد کے لجنہ کے اجتماع میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت دی بلکہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں بھی لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت دے دی جو عجیب بات تھی اور بظاہر انہونی تھی اور انصار اللہ کے اجتماع میں بھی لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت دے دی تو اس لئے ہم فوری طور پر یہ تیاریاں کر رہے ہیں۔اس پر مجھے خیال آیا کہ اللہ اس ڈپٹی کمشنر پر رحم کرے، شریف بھی ہے اور سادہ بھی ہے۔نہیں جانتا کہ کن حالات میں یہ اجازت دے رہا ہے مگر بہر حال یہ بھی کہا جاسکتا تھا کہ شریف بھی ہے اور بہادر بھی ہے اور خدا کرے یہی بات درست ہو۔بہر حال انہوں نے اجازت دیتے وقت اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ اب اگر کوئی تبدیلی ہو تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض سادگی نہیں تھی بلکہ جانتے تھے کہ اس حکم کو تبدیل کروایا جاسکتا ہے۔چنانچہ علماء فوری طور پر سیکرٹری وزارت مذہبی امور مرکزیہ سے ملے اور اس نے ان کو تعجب سے کہا کہ ہیں؟ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو یہ جرأت کہ احمدیوں کو اپنے اجتماع کے لئے لاؤڈ سپیکر کی اجازت دے دے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، آپ بھول جائیں اس بات کو ، یہ ناممکن ہے۔چنانچہ دو دن بعد ہی جماعت کو تحریری حکم مل گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب معذرت کے ساتھ اطلاع کرتے ہیں کہ ان کو اپنا پہلا اجازت نامہ منسوخ کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے لجنہ کا اجتماع، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ اجتماع منعقد نہ کیا جائے اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ بغیر لاؤڈ سپیکر کے ہی خدام الاحمدیہ کا اجتماع منعقد کیا جائے۔مگر آج ہی Fax ملی ہے کہ دوسرا حکم نامہ یہ ملا ہے کہ صرف لاؤڈ سپیکر کی اجازت ہی منسوخ نہیں کی جاتی بلکہ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت بھی منسوخ کی جاتی ہے۔اس وجہ سے ربوہ میں بہت ہی بے چینی ہے، تکلیف ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے Fax کے انداز سے ہی کہ احمدی نوجوان جو مقامی ہیں یا باہر سے آئے ہیں، اس وقت بہت کرب کی حالت میں ہیں۔ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لمبے سفر ہیں۔یہ اس قسم کے جو واقعات احمدیت کی تاریخ میں ہو رہے ہیں یہ بعض منازل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہمارا قیام ان منازل پر نہیں ہے۔جو قافلے لمبے سفر پر روانہ ہوتے ہیں انہیں رستے میں مختلف قسم کے ڈاکوؤں،