خلیج کا بحران — Page 4
خلیج کا بحران ۳ راگست ۱۹۹۰ء طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظالم کو ظلم سے باز رکھنا چاہئے تھا۔اب ایسی ہی ایک بہت تکلیف دہ صورت اور سامنے آئی ہے کہ اب ایران اور عرب کی لڑائی نہیں بلکہ عرب آپس میں بانٹے جاچکے ہیں اور ایک مسلمان عرب ریاست نے ایک دوسری مسلمان عرب ریاست پر حملہ کیا ہے۔اس سلسلے میں عرب ریاستوں کی جوسر براہ کمیٹی ہے جو ان معاملات پر غور کرنے کے لئے غالبا پہلے سے قائم ہے، ان کے نمائندے کا اعلان میں نے سنا اور ٹیلی ویژن پر اس پروگرام کو دیکھا اور مجھے تعجب ہوا کہ اس لمبے تکلیف دہ تجربے کے باوجود ابھی تک انہوں نے عقل سے کام نہیں لیا اور قرآنی اصول کو اپنانے کی بجائے اصلاح کی کئی نئی راہیں تجویز کر رہے ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ ممالک جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ تمام اکٹھے ہو کر اس معاملے میں دخل دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور بعض مسلمان ممالک ان سے دخل اندازی کی اپیلیں کر رہے ہیں۔چنانچہ ایک مغربی مفکر کا انٹرویو میں نے دیکھا۔اس نے یہ اعلان کیا کہ اس وقت عراق اور کویت کی لڑائی کے نتیجے میں Concentric دو دائر کے قائم ہو چکے ہیں یعنی ایک ہی مرکز کے گرد کھینچے جانے والے دو دائرے ہیں۔ایک چھوٹا دائرہ ہے جو عالم اسلام کا دائرہ ہے ایک بڑا دائرہ ہے جو تمام دنیا کا دائرہ ہے اور ہم یہ انتظار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عالم اسلام کا دائرہ اس فساد کے مرکز کی طرف متوجہ ہو کر اس کی اصلاح میں کامیاب ہو جائے لیکن اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے اور خطرہ ہے۔(انہوں نے تو خطرے کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں ) انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ تمام دنیا کے وسیع تر دائرے کو اس معاملے میں دخل دینا پڑے گا۔قرآنی تعلیم کی طرف واپس لوٹنے کی اہمیت اس مختصر خطبے میں میں عالم اسلام کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی تعلیم کی طرف لوٹیں تو ان کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔یہ بہت ہی قابل شرم بات ہے اور نقصان کا موجب بات ہے کہ ساری دنیا مسلمان ممالک کے معاملات میں دخل دے اور پھر ان سے اس طرح کھیلے جس طرح شطرنج کی بازی پر مہروں کو چلایا جاتا ہے اور ایک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرے