خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 376

خلیج کا بحران — Page 54

۵۴ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء جو روس کو سنبھالے رکھے۔اور روس کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک نظریہ کو قوم بنادیا گیا جیسا کہ پاکستان میں ایک نظریے کو قوم بنایا گیا۔روس کا بحیثیت ملک کے دنیا کے نقشے پر ابھرنا کسی ایک قوم کے وہاں ہونے کے مرہون منت نہیں بلکہ اشترا کی نظریے کی پیداوار ہے۔اس سے پہلے زار نے جو مختلف ممالک پر قبضہ کیا تھا اس وقت اس قسم کی کلونیل ازم (Colonialism) کی کیفیت پائی جاتی تھی یعنی ایک بہت بڑی یورپین طاقت نے بہت سے وسیع اردگرد کے مسلمان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جیسے اس سے پہلے مسلمان خوانین روس پر قابض ہوا کرتے تھے اور اس کے یورپین علاقہ پر قابض ہوا کرتے تھے۔تو وہ جو کیفیت تھی وہ تبدیل کر دی گئی اور ۱۹۱۸ء کے انقلاب میں جو نئی بات روس سے رونما ہوئی وہ یہ تھی کہ قوم کی بجائے نظریے نے ایک ملک پیدا کیا اور روس نے تمام دنیا میں بڑے زور سے اس بات کا پروپیگینڈا شروع کیا کہ ملک حقیقت میں قوموں سے نہیں بنا کرتے بلکہ نظریوں سے بنتے ہیں اس لئے ہمارا نظریہ عالمگیر ہے اور عالمگیر اشترا کی قوم دنیا میں ابھرے گی اس نظریے سے استفادہ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ممالک کو آپس میں پھاڑنے میں ان لوگوں نے بہت سا کام کیا اور جہاں جہاں یہ نظریہ پھیلا ہے وہاں قومیت کے خلاف بھی جہاد شروع ہوئے لیکن بعض جگہ اس نظریہ کا کھلم کھلا تصادم ہوا کہ اسلام بھی در اصل نظریہ کے نام پر ملک قائم کرنا چاہتا ہے اور قوم کا کوئی تصور اس کے سوا موجود نہیں۔اس نظریے کی ایک محدودشکل پاکستان کا دو قومی نظریہ ہے۔اس وقت میرے پاس وقت نہیں کہ میں اس کی تفصیل بیان کروں اور صحیح صورتحال آپ کے سامنے رکھوں کہ دو قومی نظریہ کس حد تک قابل عمل تھا کس حد تک نہیں اور حقیقت سے اُس کا کیا تعلق ہے؟ اور جو غیر معمولی جدوجہد مسلمانانِ ہند نے پاکستان کے قیام کے لئے کی اُس کی دراصل کیا وجہ تھی اور اس کے محرکات حقیقی معنوں میں کیا تھے؟ کیا اقبال کے نظریوں کو پڑھنے کے بعد انہوں نے ایسا کیا تھا؟ اور اُس سے متأثر ہوکر ایسا کیا یا بالکل مختلف وجوہات تھیں؟ بہر حال یہ مضمون الگ ہے مگر میں یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ روس میں جب اشتراکیت کا نظریہ شکست کھا گیا جو مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور اُس کے گرد ساری