خلیج کا بحران — Page 48
۴۸ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء فیصلوں کے لئے۔پس عقل کل کا تقویٰ سے تعلق ہے یہ بات دنیا کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔قرآن کریم جب تقویٰ پر زور دیتا ہے تو پاگل ملائیت پر زور نہیں دیتا۔ایسے تقویٰ پر زور دیتا ہے جس سے فراست پیدا ہوتی ہے۔جس سے مومن خدا کے نور سے دیکھنے لگتا ہے اور عقل کل اور تقوئی دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ہر چالا کی جو تقویٰ سے عاری ہوگی وہ لازماً بالآخر نا کامی پر منتج ہوگی۔اسے چالا کی کہہ سکتے ہیں اسے عقل نہیں کہہ سکتے۔پس آج دنیا خواہ مشرق کی ہو یا مغرب کی ہو ، عقل کل سے عاری ہے کیونکہ تقویٰ سے عاری ہے اور تقویٰ کی دولت کے امین اے محمد مصطفی حملے کی جماعت ! اے مسیح محمدی کی جماعت! تمہیں بنایا گیا ہے۔پس اس امانت کا حق ادا کرو اور جب تک تم اس امانت کے امین بنے رہو گے خدا تمہیں ہمیشہ غلبہ عطا کرے گا اور ناممکن کو تم ممکنات بنا کر دکھاتے چلے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔☆☆☆