خلیج کا بحران — Page 360
۳۶۰ ۱۵ مارچ ۱۹۹۱ء اور کچھ ان کے پس پردہ مخفی ارادے ہیں جو ظاہری ارادوں سے بھی بدتر ہیں لیکن ہمیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اس بلا ء کے پیچھے پیچھے اور بھی بہت سی بلائیں آنے والی ہیں۔اس وقت ہم رمضان مبارک میں داخل ہو رہے ہیں اور دعاؤں کا خاص موقع ہمیں میسر ہوگا۔پس اس رمضان مبارک کو خصوصیت کے ساتھ بنی نوع انسان کے دفاع کا رمضان بنا دیں۔مسلمانوں کے دفاع کا رمضان بنادیں۔انسانیت کے دفاع کا رمضان بنادیں اور اسلام کے دفاع کا رمضان بنادیں اور دعا یہ کریں کہ اے خدا! ہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنی بڑی بڑی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو خود تو نے پیدا کی ہیں اور جن کی خبر تو نے اصدق الصادقین حضرت اقدس محمد علی ہے صلى الله کے ذریعے ہمیں ۱۴۰۰ سال پہلے عطا فرما دی تھی۔پس ہم کمزور ہیں، نہتے ہیں، بے طاقت ہیں اور ہمارے مقابل پر جو طاقتیں ہیں ان کو تو نے ہی اتنی دنیا وی عظمت بخش دی ہے کہ ہم ان کے سامنے بالکل بے بس ہیں ، پس تیری ہی طرف ہم جھکتے ہیں، تجھ سے ہی رجوع کرتے ہیں ، تجھ سے ہی عاجزانہ دعائیں کرتے ہیں کہ ان پیشگوئیوں کے دوسرے حصوں کو بھی سچا کر دکھا، یعنی مسیح موعود اور آپ کی دعاؤں کی برکتوں سے دنیا کی یہ عظیم طاقتیں اپنے ایسے دنیا وی خزائن کے ذریعے جن کے مقابل پر ہمیں ایک دمٹری کی بھی حیثیت حاصل نہیں دنیا کے ایمان خرید رہی ہیں۔تو ہی اس دنیاوی دولت کے شر سے لوگوں کو بچا۔یہ اپنے ایسے عظیم ہتھیاروں کے ذریعے جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور جن کی ڈھیریاں پہاڑوں کے برابر ہیں اور جن کے اندر ہلاکت کی ایسی طاقتیں ہیں کہ صرف اگر ایٹم بم کو ہی استعمال کیا جائے یعنی ایٹم بم کے ان ذخائر کو استعمال کیا جائے جو امریکہ اور روس میں ہیں تو سائنسدان بتاتے ہیں کہ یہ ساری دنیا بیسیوں مرتبہ ہلاک کی جاسکتی ہے اور ان میں اتنی ہلاکت کی طاقت ہے کہ صرف دنیا میں بسنے والے انسان ہلاک نہیں ہوں گے بلکہ اس دنیا سے زندگی کا نشان تک مٹ سکتا ہے۔پس یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! تو نے ان بدبختوں کو دولتیں بھی اتنی دے دیں کہ ان کے مقابل پر سارے عالم اسلام کی مجموعی دولت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور پھر ہتھیار بھی ان کو ایسے عطا فرما دیئے کہ جن میں سے صرف ایک ہتھیار کے ایک حصے کو استعمال کر کے یہ دنیا کی بڑی بڑی