خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 376

خلیج کا بحران — Page 361

۳۶۱ ۱۵ مارچ ۱۹۹۱ء قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور مقابل پر ہمیں احمدیوں کو کھڑا کر دیا ہے جن کے پاس کچھ بھی نہیں جو ایک بہت ہی غریب جماعت ہیں۔لیکن ساتھ ہی ہمیں خوش خبری بھی دی اور یہ خوش خبری دی کہ تمہاری دعاؤں کو میں سنوں گا اور ان دعاؤں کی برکت سے میں بالآخران عظیم قوموں کو پارہ پارہ کر دوں گا اور آنحضرت ﷺ نے نقشہ یہ کھینچا ہے کہ جس طرح نمک سے برف پگھلتی ہے اس طرح تمام دجالی طاقتیں جو انسانیت اور حق کی دشمن ہیں وہ برف کی طرح پکھل کر غائب ہو جائیں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔تو دعاؤں کی طاقت آپ کے پاس ہے۔اس عظمت کو پہچانیں اور یادرکھیں کہ یہ عظمت انکساری میں ہے۔اس بات کو کبھی نہ بھولیں۔دنیا کی طاقتوں اور مذہبی طاقتوں میں یہ بنیادی فرق ہے کہ دنیا کی طاقتیں تکبر پر منحصر ہوتی ہیں اور مذہبی طاقتیں بجز پر منحصر ہوتی ہیں۔پس دعا میں اتنی زیادہ رفعت پیدا ہوگی جتنا آپ خدا کے حضور جھکیں گے۔دعا میں اتنی ہی زیادہ طاقت پیدا ہوگی جتنا آپ بے طاقتی محسوس کریں گے۔آپ کی بے بسی کے نتیجے میں دعاؤں کو قو تیں عطا ہوں گی۔پس اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہوئے اس رمضان سے حتی المقدور فائدہ اٹھائیں اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ بے بسی کے عالم میں خدا کے حضور بچھ جائیں کہ اے خدا ! ان بڑی بڑی طاقتوں کے شر کے ارادوں کو باطل کر دے اور جو ان کی خیر ہے وہ باقی رکھ۔ہمیں کسی قوم سے من حیث القوم نفرت کی اجازت نہیں ہے۔نہ نفرت ہمارے خمیر میں داخل فرمائی گئی ہے اس لئے ہم دنیا کی جاہل قوموں کی طرح مغربی طاقتوں کے خلاف نہ دعائیں کر سکتے ہیں نہ نفرت کے جذ بے رکھ سکتے ہیں۔ہم شر سے متنفر ہیں اور اپنی دعاؤں کو خصوصیت کے ساتھ شر کے خلاف رکھیں۔قومی اور عصبیتی رنگ میں بعض قوموں کی ہلاکت کی دعائیں نہ کریں۔یہ دعا کریں کہ اے خدا! جو مشرق میں تیرے عاجز بندے ہیں ان کے ساتھ بھی کچھ شر وابستہ ہیں انکے شر کو بھی مٹادے اور جو مغرب کی عظیم طاقتیں ہیں جو ساری دنیا پر غالب ہیں ان کے شرک بھی مٹادے۔ان کا شر اس لئے زیادہ خطرناک ہے کہ طاقتور کا شر ہمیشہ زیادہ خطر ناک ہوا کرتا ہے، طاقت ور کا شر زیادہ پھیلنے