خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 376

خلیج کا بحران — Page 339

۳۳۹ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اس رخ پر ہے کہ اس کے بعد یہ چاہیں نہ چاہیں یہ ان قدموں کے ذریعہ تیسری دنیا کی غریب قوموں کو مزید پامال کرنے پر مجبور ہوتی چلی جائیں گی۔کیونکہ یہ اپنا معیار نہیں گزار ہیں اور ان کی سیاسی طاقتوں میں یہ استطاعت ہی نہیں ہے کہ اپنی قوم کو معیار گرانے کے مشورے دیں۔جو پارٹی ایسا کرے گی یہ پارٹی انتخاب ہار جائے گی۔اس لئے یہ ایسے غلیظ پھندے میں جکڑے جاچکے ہیں کہ ظلم پر ظلم کرنے پر اب مجبور ہو چکے ہیں۔اس لئے اپنے دفاع کے لئے تیسری دنیا کی قوموں کو خود اٹھنا ہوگا اس کے بغیر نہ ان کو اپنی فوجوں سے آزادی ہو سکتی ہے نہ اپنی بداخلاقیوں سے آزادی ہوسکتی ہے ، نہ ان سب لعنتوں سے آزادی مل سکتی ہے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور جب تو میں ان بیماریوں کا شکار ہوں تو پھر یہ شکوہ کیا کہ ہم مر رہے ہیں اور گدھیں ہمارے پاس آکر بیٹھی ہماری موت کا انتظار کر رہی ہیں۔مارنے کے لئے آپ کے جسم کے اندر بیماری پیدا ہوتی ہے اور وہ بیماری جراثیم کو دعوت دیتی ہے۔جراثیم سے بھی بیماری پیدا ہوتی ہے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ صحت مند جسم کو جراثیم کچھ نہیں کہہ سکتے۔پس بیماری کا آغا ز اندر سے ہوتا ہے نہ کہ باہر سے جب جسموں کی دفاع کی طاقت ختم ہو جائے تو پھر جراثیم وہاں پہنچتے ہیں اور جسموں پر قبضہ پالیتے ہیں اور جب ان کا قبضہ مکمل ہو جاتا ہے تو پھر یہ جسم لازماً موت کے منہ میں جاسوتے ہیں اور پھر گدھوں کا آنا اور ان کی بوٹیاں نوچنا اور ان کی ہڈیاں بھنبھوڑ نا یہ ایک قدرتی عمل ہے جس نے بعد میں لازماً آنا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تقدیر ہے جس سے کوئی دنیا کی طاقت آپ کو بچا نہیں سکتی اگر آج آپ خود فیصلہ نہ کریں۔پس پیشتر اس کے کہ اس کنارے تک پہنچ جائیں اور پھر آپ کی لاشیں خواہ کھلے میدان میں عبرت کا نشان بن کر پڑی رہیں یا قبروں میں دفن کی جائیں اور اگر آج آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بیان فرمودہ اخلاق کو اور بیان فرمودہ تعلیم کو اپنا لائحہ عمل بنالیں گے اور انسانی قدروں کی حفاظت کریں گے اور کھوئی ہوئی قدروں کو دوبارہ نافذ کریں گے تو غیروں کی ذلت آمیز غلامی سے نجات کا صرف یہ طریق ہے اس کے سوا کوئی طریق نہیں۔ہے۔