خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 376

خلیج کا بحران — Page 328

۳۲۸ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء گزرا جاہی نہیں سکتا۔چنانچہ وہ مسائل یہ ہیں۔مثلاً کشمیر کا مسئلہ ہے۔کشمیر کے مسئلے کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان میں جو رقابتیں پیدا ہو چکی ہیں۔ان رقابتوں کے نتیجے میں یہ اتنی بڑی فوج پالنے پر مجبور ہیں کہ جس کے بعد دنیا کا کوئی ملک اقتصادی طور پر آزادی سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ساتھ فیصدی سے زائد جس قوم کی اجتماعی دولت فوج پالنے پر خرچ ہورہی ہواس کے حصے میں دنیا میں وقار کی زندگی ہے ہی نہیں ، اس کے لئے مقدر ہی نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اقتصادی لحاظ سے اپنی طاقت سے بڑھ کر دفاع پر خرچ کرتا ہے اسے بھیک مانگنا لازم ہے اس کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی لحاظ سے بھی دنیا سے بھیک مانگے اور فوجی طاقت کو قائم رکھنے کے لئے بھی دنیا سے بھیک مانگے۔پس ہندوستان اور پاکستان کو بھکاری بنے کی جو لعنت ملی ہوئی ہے یا اس لعنت میں وہ مبتلا ہیں کہ مشرق و مغرب جہاں بھی توفیق ملے وہ ہاتھ پھیلا کر پہنچ جاتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھیک دو۔تو اس کی بنیادی وجہ آپس کے یہ اختلافات ہیں۔آخری قضیئے میں اس کے سوا کوئی صورت نہیں بنتی۔پس مسئلہ کشمیر اور اس قسم کے دیگر مسائل کو حل کرنے کے نتیجے میں ان علاقوں میں انقلاب بر پا ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی چیزیں ہیں جن پر عملدرآمد ضروری ہے ، صرف ہندوستان اور پاکستان کے لئے ہی نہیں باقی مشرقی دنیا کے لئے بھی خواہ وہ ایشیا کی ہو یا افریقہ کی ہو، اسی طرح جنوبی امریکہ میں بھی ایسے ہی مسائل ہیں ، ہر جگہ یہی مصیبت ہے کہ علاقائی اختلافات کے نتیجے میں عدم اطمینان ہے ، عدم اعتماد ہے اور ہر جگہ تیسری دنیا کے غریب ملک اپنی خود حفاظتی کے لئے اتنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں کہ امیر ملک اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کر رہے۔جن کو توفیق ہے وہ تو ۳ فیصد سے ۴ فیصد کی بات کرتے ہیں۔۴ سے ۵ کی اور جب ۷ فیصد خرچ پہنچ جائے تو اس پر خوفناک بخشیں شروع ہو جاتی ہیں اتنا زیادہ دفاع پر خرچ ہورہا ہے ، ہم برداشت نہیں کر سکتے اور غریب ملکوں کی عیاشی دیکھیں کہ ساٹھ ساٹھ ستر ستر فیصد خرچ کر رہے ہیں اور اس کے باوجود یہ کافی نہیں سمجھا جاتا۔چنانچہ فوجی امداد مانگی جاتی ہے۔