خلیج کا بحران — Page 316
۳۱۶ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کے ملکوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اپنی نیتوں کو ٹولو۔اگر تم اس لئے بچپن سے انجنیئر نگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہو کہ رشوت لینے کے بڑے مواقع ہاتھ آئیں گے اور بڑی بڑی کوٹھیاں بناؤ گے اور ویسے محل تعمیر کرو گے جیسے ہمسائے یا کسی اور کے محل تم نے دیکھے تھے تو اس نیت کے ساتھ تم دنیا میں کچھ بھی تعمیر نہیں کر سکتے۔اگر اس لئے ڈاکٹر بننا چاہتے ہو کہ زیادہ سے زیادہ رو پیدا کٹھا کر کے اپنے لئے سونے کے انبار بناؤ گے اور بڑے بڑے عظیم الشان ہسپتال تعمیر کرو گے اور زیادہ سے زیادہ روپیہ کھینچتے چلے جاؤ گے اور اپنی اولاد کے لئے دولتوں کے خزانے پیچھے چھوڑ جاؤ گے تو پھر تم خود بیمار ہو۔Physician Heal Thyself ایسے ڈاکٹر بننے سے بہتر ہے کہ تم خود مرجاؤ کیونکہ جو قوم کی فلاح و بہبود کے لئے علم طب نہیں سیکھتا اس کے علم طب میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔پس اگر سیاستدان بننے کے وقت تم نے یہ خواہیں دیکھیں یا اس سے پہلے یہ خوا میں دیکھی تھیں کہ جس طرح فلاں سیاستدان نے اقتدار حاصل کیا، اس سے پہلے دو کوڑی کا چپڑاسی یا تھانیدار تھا یا کچھ اور محکمے کا افسر تھا، استعفے دیئے اور سیاست میں آیا اور پھر اس طرح کروڑ پتی بن گیا اور اتنی عظمت اور جبروت حاصل کی۔آؤ ہم بھی اس کے نمونے پر چلیں۔آؤ ہم بھی سیاست کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کریں تو پھر تم نے سیاست کی ہلاکت کا اسی دن فیصلہ کر لیا اور تم اگر کسی قوم کے راہنما ہوئے تو تم پر یہ مثال صادق آئے گی کہ : واذا كان الغراب هاد قوم سيهديهم طريق الهالكين کہ دیکھو جب کبھی بھی کوے قوم کی سرداری کیا کرتے ہیں تو ان کو ہلاکت کے رستوں کی طرف لے جاتے ہیں۔پس نیتوں کی اصلاح کرو اور یہ فیصلے کرو کہ جو کچھ گزر چکا گزر چکا ، آئندہ سے تم قوم کی سرداری کے حقوق ادا کرو گے، سرداری کے حقوق اس طرح ادا کرو جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے تمام عالم کی سرداری کے حق ادا کئے تھے۔وہی ایک رستہ ہے سرداری کے حق ادا