خلیج کا بحران — Page 317
۳۱۷ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کرنے کا اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں۔حضرت عمرؓ جب بستر علالت پر آخری گھڑیوں تک پہنچے اور قریب تھا کہ دم تو ڑ دیں تو بڑی بے چینی اور بے قراری سے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! اگر میری کچھ نیکیاں ہیں تو بے شک ان کو چھوڑ دے میں ان کے بدلے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر میری غلطیوں پر پرسش نہ فرمانا۔مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنی غلطیوں کا حساب دے سکوں۔یہ وہ روح ہے جو اسلامی سیاست کی روح ہے۔اس روح کی آج مسلمانوں کو بھی ضرورت ہے اور غیر مسلموں کو بھی ضرورت ہے۔آج کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ سیاست کی اس روح کو زندہ کر دو۔تامرتی ہوئی انسانیت زندہ ہو جائے۔یہ روح زندہ رہی تو جنگوں پر موت آجائے گی لیکن اگر یہ روح مرنے دی گئی تو پھر جنگیں زندہ ہو گئیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت جنگوں کو موت کے گھاٹ اتار نہیں سکتی۔میری کوشش تو یہی تھی کہ تمام مضمون آج ہی ختم کر دوں لیکن چونکہ وقت بہت زیادہ ہو چکا ہے اور ابھی بہت سے ایسے مشورے باقی ہیں جن کو مختصر بھی بیان کیا جائے تو وقت لیں گے اس لئے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبے میں میں خدا تعالیٰ سے بھاری امید رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ ختم ہوگا اور پھر ہم واپس جہادا کبر کی طرف لوٹیں گے یعنی ذکر الہی کے متعلق باتیں کریں گے۔دین کے اعلیٰ مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور دین کی معرفت کی گہرائیوں تک غوطہ زنی کی کوشش کریں گے تا کہ رمضان میں خوب دل اور نفوس کو پاک کر کے اخلاص کے ساتھ داخل ہوں اور زیادہ سے زیادہ رمضان کی برکتوں سے اپنی جھولیاں بھر سکیں۔آمین