خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 376

خلیج کا بحران — Page 293

۲۹۳ یکم مارچ ۱۹۹۱ء زاویہ نگاہ ہے حالانکہ حقیقت وہی رہتی ہے جس طرح چاہیں اس کی تعبیر کر لیں۔یہ فیصلہ تو بہر حال آنے والا وقت کرے گا کہ کس نے کس کو Heel کیا ہے۔آوازوں کے لحاظ سے بھی دماغ عجیب عجیب کرشمے دکھاتا ہے۔ایک ہی آواز کے مختلف معنی لئے جاتے ہیں۔ایک آواز دنیا یہ سن رہی ہے کہ عراق کے جوڑ جوڑ توڑنے کا ارادہ اس لئے ہے کہ کبھی بھی عراق آئندہ کو بیت پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔گویا سارا مقصود کائنات کو بیت ہے اور ہر دوسرے ملک پر ہر دوسرے ملک کو حملے کرنے کی کھلی چھٹی ہے لیکن کو بیت پر کسی کو حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پس کویت کویت کی آوازوں کا ایک یہ مطلب ہے جو دنیا کو سنائی دے رہا ہے اگر اسی آواز کو اسرائیل کے کانوں سے سنا جائے تو وہاں یہ آواز سنائی دے گی کہ عراق کے اسی لئے ٹکڑے ٹکڑے کئے جارہے ہیں اور اس لئے اس کا جوڑ جوڑ تو ڑا جا رہا ہے کہ یہ کبھی اسرائیل پر حملہ کرنے کا خواب بھی نہ دیکھ سکے اور صرف یہی نہیں بلکہ دنیا میں کوئی ملک بھی کبھی اسرائیل کو ٹیڑھی نظر سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے۔تو دیکھئے آواز وہی ہے لیکن مختلف کانوں میں مختلف شکلوں پر پڑ رہی ہے اور مختلف دماغ اس کی مختلف تعبیر میں کر رہے ہیں۔ایک اور پہلو یہ قابل ذکر ہے کہ شائستگی اور تہذیب اور نرمی اور پیار صرف انسانوں کا حصہ نہیں بلکہ گوشت خور جانور بھی ایک تہذیب رکھتے ہیں۔ایک نرمی اور پیار رکھتے ہیں۔جب تک وہ شکار پر نہ جھپٹیں یا جب تک کسی دشمن کا مقابلہ نہ کریں ان کے پاؤں کے تلوے گداز اور نرم ہوتے ہیں اور مخمل کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے جبڑے نرم نرم ہونٹوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے دانت نرم نرم ہونٹوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ آپس میں محبت اور پیار سے رہتے ہیں بلکہ دوسرے جانوروں کو بھی بری نظر سے نہیں دیکھتے لیکن وہ وقت جب شکار کا وقت آتا ہے، جب دشمن پر جھپٹنے کا وقت آتا ہے۔انہی نرم نرم مخملیں پاؤں سے خوفناک پنجے نمودار ہو جاتے ہیں اور انہی نرم ہونٹوں کے پیچھے سے وہ ہولناک کچلیاں نکل آتی ہیں جو کسی جانور پر رحم نہیں جانتیں۔پس اس صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کون سے وقت ہوتے ہیں جب انسان پہچانے جاتے ہیں۔