خلیج کا بحران — Page 288
۲۸۸ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اپنے تکبر کے نشے میں اتنی بلند پروازی ہے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے فرضی ظلموں کے مینار کی چوٹیوں پر بیٹھے ہوئے دنیا کا ملاحظہ کر رہے ہیں تو پھر آئندہ کیا ہوگا اور خدا کی تقدیر ان کو کیا دکھائے گی۔اُس کے متعلق میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں کچھ بیان کروں گا اور یہود کو بھی مشورہ دوں گا اور مسلمانوں کو بھی اور باقی دنیا کو بھی۔آج کا وقت جدید انسانی تاریخ میں انتہائی نازک وقت ہے۔ابھی وقت ہے کہ ہم اس ظلم اور استبداد کے دھارے کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ابھی معاملہ اتنا زیادہ ہاتھ سے نہیں نکلا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ان مشوروں کو قبول کر لیا گیا جو میں قرآنی تعلیم کے نتیجے میں، اُس کی مطابقت میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں تو انشاء اللہ اس ظلم کے دھارے کا رخ ہم واپس موڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہماری حیثیت صرف عاجز دعا گو بندوں کی حیثیت ہے اور ہماری دعائیں لازماً وہ کام کر سکتی ہیں جو ہماری ظاہری کوششیں بظاہر نہیں کرسکتیں۔بظاہر کیا؟ فی الحقیقت بھی نہیں کر سکتیں۔ہماری کوششوں کی کوئی حیثیت نہیں اتنی بھی نہیں ہے کہ ہم جو امریکہ کو ایسے الفاظ میں مخاطب کر رہے ہیں ، اس سے ان کے وجود کا ایک بال بھی کانپے یا ہلے یا اس میں جنبش محسوس ہو ، اس کے باوجود میں جانتا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مقدر ہے کہ دنیا کے آخر پر اگر دنیا کی تاریخ کا رخ موڑنا ہے تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی دعاؤں نے موڑنا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے عشاق کی دعاؤں نے موڑنا ہے اور خدا کے عاجز بندوں کی پچھلی ہوئی دعاؤں نے موڑنا ہے۔خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ لکھتے ہیں کہ یہ مقدر تھا اور ہے اور ایسا ضرور ہوگا۔آپ فرماتے ہیں جب مسیح کی روح آستانہ الوہیت میں پچھلے گی اور راتوں کو اس کے سینے سے درد ناک آواز میں اٹھیں گی تو خدا کی قسم دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس طرح پگھلنے لگیں گی جیسے برف دھوپ میں پچھلتی ہے اور اس طرح ان طاقتوں کے ہلاک ہونے کے دن آئیں گے اور ان کے تکبر کے ٹوٹنے کے دن آئیں گے۔(خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۶ صفحه : ۳۱۷، ۳۱۸) مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو آج نہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح جماعت احمدیہ میں زندہ ہے۔پس اے مسیح موعود کی روح کو اپنے سینوں میں لئے ہوئے احمد یو!