خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 376

خلیج کا بحران — Page 25

۲۵ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء کے لئے ہلاکتوں کے رستے کھولنے والا سال تھا اور اس کے بعد جب بھی بڑے بڑے واقعات اسلامی مملکتوں پر گزرے ہیں، ہمیشہ غیروں کی سازشوں میں بعض مسلمان ممالک ضرور شامل رہے ہیں۔ہلاکو خان کے ذریعے ۱۲۵۸ھ میں بغداد کو تباہ کروایا گیا یعنی تقدیر نے کروایا یا جو بھی حالات تھے اُن میں بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس وقت المعتصم جو آخری عباسی خلیفہ تھا اور بہت کمزور ہو چکا تھا اُس کے وزیر اعظم نے یا وزیر نے مجھے جہاں تک یاد ہے غالباً وزیر اعظم تھے اور وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور وہ المعتصم سے ناراض تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے بعض نہایت ظالمانہ کاروائیاں شیعوں کے خلاف کیں۔یہ درست ہے کہ وہ کاروائیاں ظالمانہ تھیں اُن کا کوئی حق المعتصم کو نہیں پہنچتا تھا لیکن اس کا بدلہ انہوں نے اس طرح اُتارا کہ ہلاکو خان جو اپنے تسخیر کے ایک دورے پر تھا لیکن یہ خوف محسوس کرتا تھا کہ بغداد پر حملہ کرنا شاید معقول نہ ہو اور شاید اس کے اچھے نتائج نہ نکلیں اُس کو اس وزیر نے پیغام بھجوایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس مملکت کا صرف رعب ہی رعب ہے اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے اور بعض اور ایسے اقدامات کئے جن کے نتیجے میں فوج کو منتشر کروا دیا گیا۔زیادہ جو فوج رکھی گئی تھی اس کے متعلق بادشاہ کو کہا گیا کہ خزانہ اس کا بار برداشت نہیں کر سکتا اس لئے اس کو کم کر دو۔کچھ فوج کو ایسی سرحدوں کی طرف بھجوا دیا گیا جہاں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔غرضیکہ ہلاکو خان کو دعوت دے کر بلوایا گیا اور وہ جو بے انتہاء خوفناک بر بادی بغداد کی اور اس اسلامی حکومت کی ہوئی ہے اس کی تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔اکثر لوگوں نے یہ واقعات سنے ہوں گے اور اس پر بعض درد ناک ناول بھی لکھے گئے۔بہر حال یہ دنیا کا ایک معروف ترین تاریخی واقعہ ہے یہ واقعہ ۶۳۷ ھ میں گزرا ہے اندر سے ہی بعض مسلمانوں نے غیر قوموں سے سازش کر کے بغداد پر حملہ کروایا۔اس کے بعد تیمور لنگ کے ہاتھوں ۱۳۸۶ھ میں بڑی بھاری تباہی مچائی گئی اور اس وقت بھی مسلمانوں کے نفاق اور افتراق کا نتیجہ تھا کہ تیمور لنگ کو یہ موقعہ میسر آیا کہ وہ ایک دفعہ پھر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادے اور اس مملکت کو تباہ و برباد کر دے۔تیسری دفعہ ترکوں کے ہاتھوں ۱۶۳۸ھ میں بغداد کی حکومت کو برباد کیا گیا اور یہ بھی ایک