خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 376

خلیج کا بحران — Page 26

۲۶ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء مسلمان حکومت تھی جو مسلمان حکومت کے خلاف برسر پر کا تھی۔اس کے بعد ترکوں کی حکومت کو برباد کرنے کے لئے انگریزوں نے سعودی عرب کے اُس خاندان اور سعودی عرب کے اُس فرقے سے مدد حاصل کی جو اس وقت سعودی عرب پر قابض ہے اور اس زمانے میں کو یت جس پر اب عراق نے حملہ کیا ہے ان کا نمایاں طور پر مد و مددگار تھا۔چنانچہ ان کی کوششوں سے یعنی اگر سعودی عرب کے موجودہ خاندان کو جو ایک سیاسی خاندان تھا اور ان کا قبیلہ اور فرقہ وہابی ا کٹھے ہو کر انگریز کی تائید نہ کرتے اور اگر کویت میں بسنے والے قبائل ان کی مددنہ کرتے تو تر کی حکومت کو عالم اسلام سے ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔عرب ازم کے تصور کو اُٹھایا گیا اور بھی بہت سی کا رروائیاں ہیں۔یہ لمبی کہانی ہے مگر اس وقت بھی ایک غیر طاقت نے بعض مسلمانوں کو استعمال کر کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی حکومت کو برباد کیا یعنی پہلے ترکی نے بغداد کی حکومت کو تباہ کیا پھر کویت اور سعودی عرب کے علاقے میں بسنے والے مسلمانوں کی مدد سے ترکی کی حکومت کو تباہ و برباد کر وایا گیا۔اب پھر ویسے ہی حالات در پیش ہیں۔اب پھر سعودی عرب کی مدد سے اور تائید سے اور اردگرد کی ریاستوں کی تائید اور مدد کے ساتھ ایک بڑی اسلامی مملکت کو بہت ہی سخت خطرہ در پیش ہے اور جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے ان قوموں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس دفعہ عراق کو ایسی خوفناک سزادی جائے اور ایسی عبرتناک سزادی جائے کہ پھر بیسیوں سال تک کوئی مسلمان ملک ان قوموں کے خلاف سر اُٹھانے کا یا ان سے آزادی کا تصور بھی نہ کر سکے اور اس میں سب سے بڑا محرک اسرائیل ہے کیونکہ اسرائیل بڑے عرصے سے یہ شور مچا رہا ہے کہ ہمیں عراق کی طرف سے کیمیائی حملے کا خطرہ ہے اور ہماری چھوٹی سی ریاست ہے اگر عراق کیمیاوی حملہ کرے تو ہم صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔یہ حقیقت میں اسلام پر حملہ ہے پس جو بھی خطرہ تھا وہ حقیقی تھا یا غیر حقیقی اور اس کی ذمہ داری کس پر ہے اس بحث میں جائے بغیر یہ بات بہر حال قطعی اور یقینی ہے کہ سب سے بڑا ان حالات کا محرک اسرائیل ہے اور اسرائیل کے