خلیج کا بحران — Page 24
۲۴ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء میں اس تاریخ کا مختصر ذکر آپ کے سامنے رکھتا ہوں، صرف نکات کی صورت میں۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں السمرا کے اعداد پر بحث کرتے ہوئے یہ نقاب کشائی سب سے پہلے فرمائی کہ ان آیات میں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان اعداد میں اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ کوئی تعلق موجود ہے اور ان کے اعداد ۲۷ بنتے ہیں اور ا۲۷ وہ سال ہیں جو پہلی تین نسلوں کے گزرنے کے سال ہیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی تھی کہ یہ نسلیں یعنی میری نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل یہ مامون اور محفوظ نسلیں ہیں۔ان کا بھی کم و بیش وقت ۲۷۱ سال پر جا کر پورا ہوتا ہے۔یہ وہ خطرناک سال ہے جس میں عالم اسلام کے انحطاط کی بنیادیں کھودی گئیں اور آئندہ سے پھر عالم اسلام میں جو افتراق پیدا ہوا ہے اور مختلف جگہ انحطاط کے آثار پیدا ہوئے ہیں دراصل ان کا آغاز اسی سال میں ہوا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جو دو بڑے اہم واقعات سنگ میل کے طور پر پیش فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ ۲۷۱ میں سپین کی اسلامی مملکت نے پوپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ بغداد کی حکومت کو تباہ کرنے میں اور ان کو شکست دینے میں پوپ سپین کی اسلامی مملکت کی تائید کرے گا اور اس زمانے میں چونکہ پوپ کا اثر مغربی سیاسی دنیا پر غیر معمولی طور پر زیادہ تھا بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوپ ہی کی حکومت تھی اس لئے یہ ایک بہت ہی بڑا خطرناک معاہدہ تھا اور یہ ایسی سازش تھی جیسے آج سعودی عرب تمام مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرے کہ ایک اسلامی ملک کو تباہ کر دیا جائے اور وہ اسلامی ملک پھر وہی ملک ہو جس کا دارالخلافہ بغداد ہے۔دوسری طرف بغداد نے ۲۷۲ یا ۲۷۳ ہجری میں قیصر روم کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ قیصر روم اور بغداد کی حکومت یعنی عراق کی حکومت اُس وقت تو عراق اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ عراق کے علاوہ بھی اسلامی مملکت پھیلی ہوئی تھی ، اس لئے اس زمانے کی اسلامی حکومت کو بغداد کی حکومت کہنا ہی زیادہ موزوں ہے تو بغداد کی حکومت اور قیصر روم کی طاقت مل کر سپین کی اسلامی مملکت کو تباہ کر دیں گے۔پس یہ وہ سال ہے جو آئندہ ہمیشہ ہمیش کے لئے مسلمانوں کے امن کو تباہ و برباد کر نے