خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 376

خلیج کا بحران — Page 256

۲۵۶ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء سمجھیں اور ان کے نفسیاتی پس منظر میں ہمیشہ یہ بات پردے کے پیچھے لہراتی رہتی ہے کہ جس طرح پہلے ایک دفعہ مسلمان ہماری جارحانہ کارروائیوں کو ( جارحانہ تو نہیں کہتے لیکن واقعہ یہی تھیں) بڑی شدت سے رد کرتے رہے ہیں آئندہ کبھی ان کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ اس طرح یہ اپنے مفادات کی ہمارے خلاف حفاظت کرسکیں۔یورپ میں یہود پر ڈھائے جانے والے مظالم ایک اور پس منظر بڑا دلچسپ اور گہرا اور بڑا دردناک ہے وہ یہ ہے کہ جب Theodor Herzl نے پہلی دفعہ یہود کی ریاست قائم کرنے کا یعنی اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تو اس نے جو وجہ پیش کی وہ یہ تھی کہ ہم پر ہزاروں سال سے ظلم ہورہے ہیں اور خاص طور پر یورپ میں جو مظالم ہورہے تھے اور فرانس میں اس سے پہلے ایک واقعہ ظلم کا ہوا تھا جب ایک یہودی کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔روفوس نام تھا غالبا اس کا اسی سلسلے میں ہرزل Herzl فرانس پہنچا آسٹریا سے اور اتنا گہرا اس پر اس ظلم کا اثر ہوا کہ اس نے یہ تحریک شروع کی تو وجہ یہ بیان کی گئی تھی فلسطین میں اسرائیل حکومت کے قیام کی کہ ہم پر یورپ میں مظالم ہوئے ہیں۔اس وقت کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ظلم کہیں ہورہے ہیں اور انتقام کسی اور سے لیا جارہا ہے یہ کیا حکمت ہے اور فلسطین میں جانے سے ان پر مظالم کا خاتمہ کس طرح ہو جائے گا، لیکن واقعہ یہ ہے اور اس بات میں یہودی یقینا سچے ہیں کہ عیسائی مغربی دنیا نے یہود پر ایسے ایسے دردناک اور ایسے ہولناک مظالم کئے ہیں کہ کم ہی دنیا کی تاریخ میں قوموں کی ایسی مثال ملتی ہو جن کو ہزار سال سے زائد عرصے تک اس طرح بار بار مظالم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہو۔اس ضمن میں میں چند امور آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ جو صلیبی جنگیں 1095ء میں شروع ہوئیں یہ فرانس سے شروع ہوئیں اور فرانس کے ایک بڑے لارڈ (یہ مجھے یاد ہے کہ Bouillon ایک جگہ ہے فرانس میں،Bouillon سے تعلق رکھنے