خلیج کا بحران — Page 255
تاریخی پس منظر ۲۵۵ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء جو جنگی مقاصد ہیں اور نفسیاتی عوامل اس کے پیچھے ہیں ان کا تاریخ سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے چونکہ میں چاہتا ہوں کہ آئندہ خطبے میں یہ بات ختم کر دوں اس لئے آج کا خطبہ تھوڑ اسا لمبا کرنا پڑے گا ور نہ پھر یہ چوتھے خطبے تک بات چلی جائے گی۔ایک پس منظر اس موجودہ لڑائی کا یا اسرائیل کے قیام کا ایسا تاریخی پس منظر ہے جس کا تعلق مسلمانوں اور عیسائیوں کی تاریخی جنگوں سے ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ صلیبی جنگیں جو 1095ء کے لگ بھگ شروع ہوئیں اور 1190ء یا 1191ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے اس کے بعد پھر یہ چھڑ نہیں سکے۔یہ تقریبا دو سو سال تک جنگیں اسی طرح ہوتی رہی ہیں ان جنگوں میں مسلمانوں نے پہل نہیں کی بلکہ یورپ کی قوموں نے آٹھ مرتبہ تمام طاقتوں نے مل مل کر عرب مسلمانوں پر حملے کئے ہیں، کئی دفعہ ان کے پہلے بھاری ہوتے رہے کئی دفعہ شکست کھاتے رہے لیکن بالآخر مسلمان فلسطین کو ان کے ہاتھوں سے بچانے میں کامیاب ہو گئے۔اور وہ زخم آج تک ان کا ہرا ہے اور وہ بھولے نہیں۔اور اس کا گہرا صدمہ ہے کہ اتنی بڑی یورپین طاقتیں مل مل کر بار بار حملے کرتی رہیں۔Richard the Lion Hearted بھی گیا اور دوسرے فرانس کے بڑے بڑے جابر بادشاہ بھی گئے۔جرمنی بھی شامل ہوا نجیم بھی شریک ہوالیکن انکی کچھ نہیں بنی ایک تو وہ زخم ہیں جن کے دکھ ابھی تازہ ہیں اور کچھ عثمانی سلطنت کے ہاتھوں جو ان کو بار بارزک اٹھانی پڑی اور یورپ کے بہت سے حصے پر وہ قابض رہے۔یہ جو حصہ ہے یہ بھی ان کے لئے ہمیشہ تکلیف کا موجب بنا رہا ہے اور بنا رہے گا۔بہر حال خلاصہ یہی ہے کہ ایک لمبا دور ہے ان کی صلیبی جنگوں کا اور سلطنت عثمانیہ کے عروج کا خصوصاً Solomon the Magnificent یعنی سلیمان اعظم کے زمانہ میں جس طرح بار باران یورپین طاقتوں کو زک پہنچی ہے اس کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہوئے کہ اسلام کو اپنے لئے خطرہ