خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 376

خلیج کا بحران — Page 246

۲۴۶ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء حق ہے کہ وہ اپنی تقدیر کے فیصلے میں شامل ہو۔اگر وہ نہیں مانتے تو کسی کا دنیا میں حق نہیں ہے کہ وہاں اس پر فیصلے کو ٹھونسا جائے۔“ اس وقت امریکہ کی یہ حالت تھی چنانچہ ایک King-Crane کمیشن انہوں نے 1919ء میں بھجوایا اس King-Crane کمیشن نے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ ، بہت ہی منصفانہ رپورٹ پیش کی اور اس میں یہ لکھا کہ ہم آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ بہت بڑی طاقت کے استعمال اور بہت بڑے خون خرابے کے بغیر اسرائیل کو وہاں نافذ نہیں کیا جاسکتا اور کیوں ایسا کیا جائے اس لئے کہ دو ہزار سال پہلے یہ لوگ یہاں آباد تھے وہ لکھتے ہیں کہ :۔اگر یہ دلیل تسلیم کر لی جائے تو دنیا سے پھر عقل ،انصاف سب کچھ مٹ جائے گا۔یہ دلیل ایسی لغو ہے کہ اس کو زیر غور ہی نہیں لانا چاہئے۔“ کجاوہ زمانہ اور کجا یہ زمانہ کہ مکمل امریکی طاقت پوری کی پوری یہود کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کی طرح کھیل رہی ہے ، نہ کوئی انصاف ، نہ کوئی عقل، نہ کوئی اخلاقی قدریں، کچھ بھی باقی نہیں رہا تو مسلمانوں کا قصور اس میں یہ ہے کہ ان کو اپنے مفاد کے لئے بیدار مغزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینا چاہئے تھا اور ان حالات میں جس طرح یہود اپنا اثر بڑھا رہے تھے ان کو بھی اپنے اثر ونفوذ کو استعمال کرنا چاہئے تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کے بعد ان میں کوئی ایسی لیڈرشپ ہی نہیں رہی جو ساری امت مسلمہ کے مسائل پر غور کرے اور ان کو ایک زندہ جسم کے طور پر، ایک دماغ اور ایک دل سے منسلک رکھ کر آگے چلائے۔جہاں تک Reasons کا تعلق ہے کہ مقاصد کیا ہیں؟ کیوں یہ جنگ لڑی جارہی ہے؟ اس کے متعلق سوشلسٹ سٹینڈرڈ Socialist Standard اپنی نومبر 1990ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ سنڈے ٹائمنز نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ مقاصد خود غرضانہ ہیں چنانچہ وہ کہتا ہے۔The Reason why we will shortly have to go to war with Iraq is not to free Kuwait