خلیج کا بحران — Page 245
۲۴۵ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء لارڈ سڈنم ( Lord Sydenham) انہوں نے Balfour کا جواب دیتے ہوئے کہا۔""۔۔۔۔the Harm done by dumping down an alien population upon an Arab country-Arab all around in the hinterland-may never be remedied۔۔۔what we have done is, by concessions, not to the Jewish people but to a Zionist extreme section, to start a running sore in the East, and no one can tell how far that sore will extend۔"(The origins of Evolution of The palestine problem (1917-1988 Page:29) pub۔by:United Nations, New york, 1990) 66 " کہتے ہیں کہ ہرگز ایسا نہ کرو ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ اجنبی لوگوں کو عربوں کے دل میں مسلط کر دیں ، ایسے علاقے میں جہاں اردگرد چاروں طرف عرب آبادیاں ہی ہیں اور اگر ایسا تم کرو گے تو عملاً وہاں ایک ایسا ناسور پیدا کر دو گے جس ناسور کی جڑوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کہاں کہاں پھیلیں گی اور کتنی کتنی دور جا ئیں گی۔“ پس انگریزی قوم میں انصاف اس وقت بھی تھا ، اب بھی ہے۔چنانچہ آج بھی ان کے بڑے بڑے دانشور اس مسئلے پر بڑی جرات کیسا تھ اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سازشیں بہت گہری ہیں اور بہت حد تک یہ یہودی چنگل میں آچکے ہیں آج امریکہ ذمہ دار ہے لیکن اس زمانہ میں امریکہ میں بھی انصاف تھا۔چنانچہ صدر Wood Ward Wilson نے 1918ء میں جو اصول پیش کئے اس میں انہوں نے یہ اصول پیش کیا تھا کہ امریکہ اس اصول کو ہمیشہ سر بلند رکھے گا اور اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہونے دے گا کہ جس علاقے کے متعلق کوئی فیصلہ کیا جارہا ہے اس علاقے کی اکثریت کا اول