خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 376

خلیج کا بحران — Page 228

۲۲۸ ۸ فروری ۱۹۹۱ء عراقی شہریوں کو تباہ و برباد کیا اور بڑا بھاری ظلم کیا۔ان کا یہ تبصرہ خود مغربی اتحادیوں کے اعلانات کے نتیجے میں ہے جو انہوں نے فوجی حالات کے متعلق خود خبر نامے جاری کئے ہیں ان سے یہ تصویر قائم ہوتی ہے یعنی اگر ہر ایک منٹ پر ایک جہاز بمباری کرنے کیلئے اٹھ رہا ہو اور یہ تسلیم کرتے ہوں کہ عراق میں اتنی بمباری کی جاچکی ہے جو آج تک دنیا کی تاریخ میں کسی جنگ میں اس طرح نہیں کی گئی اور ویت نام اس کے مقابل پر کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتا۔اس کے بعد یہ کسی ملک کا نتیجہ نکالنا کہ لاکھوں Civilions یعنی شہری اس سے متاثر ہوئے ہونگے یہ صدر بش کے نزدیک امریکہ کی بھی ہتک ہے اور اسرائیل کی بھی گستاخی ہے اور وہ ان کو متنبہ کرتے ہیں شاہ حسین کو کہ خبر دار منہ سنبھال کر بات کرو تمہیں پتا نہیں کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تمہیں کس نے حق دیا ہے اس قسم کی تنقید کرنے کا؟ خواب کے مندز پہلو بھی تو ہوتے ہیں۔کچھ تو انہوں نے امن کے خواب کی تعبیر موت دیکھی ہوئی ہے۔کچھ خواب کے اندازی پہلو بھی ہیں اور انذاری پہلو میں میرے نزدیک یہ بات داخل ہے کہ شرق اردن کے اوپر حملے کا بہانہ بنایا جائے گا اور یہودی حکومت کو دریا کے اس کنارے پر ہی نہیں دوسرے کنارے کی طرف بھی ممتد کر دیا جائے گا۔یہ جو میرا اندازہ ہے اس کے پیچھے بہت سے تاریخی رجحانات ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں شروع دن سے آج تک یہودی مسلسل وسعت پذیر ہیں یعنی توسیع پسندی کی پالیسی محض تعداد بڑھانے کے لحاظ سے نہیں بلکہ رقبہ بڑھانے کے لحاظ سے بھی ہے اور جو آغاز میں یہود نے اسرائیل کا خواب دیکھا تھا وہ خواب یہ تھا کہ تمام دنیا کے مظلوم علاقوں سے یہود کو اکٹھا کر کے یہود کی ایک آزاد مملکت میں جمع کر دیا جائے۔اس وقت آبادی کی نسبت یہ ہے کہ یعنی تفصیل تو میں نہیں بتاؤں گا دوتین ملکوں کی آبادی بتا تا ہوں۔اسرائیل میں اس وقت یہودی چھپیں لاکھ ہیں اس کے علاوہ امریکہ میں پچاس لاکھ یہودی ہے اور روس میں چھپیس لاکھ بیان کئے جاتے ہیں اس وقت روسی یہودیوں کو بلا کر اسرائیل میں آباد کرنے کا پروگرام شروع ہے جس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے تک پچیس لاکھ مزید یہودی یعنی موجودہ