خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 376

خلیج کا بحران — Page 229

۲۲۹ ۸ فروری ۱۹۹۱ء تعداد سے دگنے اس ملک میں آباد کئے جائیں گے۔اس کے لئے زمین بھی پھر اور چاہئے۔یہ ظاہری اور طبعی بات ہے تو جتنی زمین اس وقت ان کے پاس ہے اس سے کافی تعداد میں زیادہ زمین ہوتب جا کر یہ خواب پورا ہوسکتا ہے۔پھر امریکہ کے یہودیوں کے انتقال کا پروگرام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے اور یورپ کے دوسرے یہودیوں کے انتقال کا پروگرام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔صدر بش کے خواب کا انذاری پہلو اس ضمن میں بعض باتیں میں آئندہ خطبے میں آپ کے سامنے رکھوں گا مگر مختصراً یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے قیام کے مقاصد کی اولین وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ مغربی ملکوں میں یہود محفوظ نہیں ہیں اور انہوں نے ہمیشہ یہود کو یک طرفہ ظلم کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔اگر یہی مقصد تھا اسرائیل کے قیام کا تو جتنے مغربی ممالک میں یہود ہیں جب تک ان کے لئے فلسطین کے گردو پیش جگہ نہ بنالی جائے اس وقت تک یہ خواب پورا نہیں ہوتا اور موجودہ رجحان یہی بتا رہا ہے کہ اس طرح یہ آگے بڑھ رہے ہیں۔تو صدر بش کے خواب میں غالباً انذاری پہلو یہ بھی داخل ہے کہ شرق اردن کے دوسرے حصے پر بھی قبضہ کر لیا جائے اور بعد میں یہ خواب کس طرح آگے بڑھے گا اور دنیا کو کس حد تک اپنی لپیٹ میں لے گا وہ لمبی باتیں ہیں مختصر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد باریوں کی بات ہے۔جب تک مسلمان طاقتیں ایک کے بعد دوسری تباہ و برباد نہ ہوجائیں اس وقت تک صدر بش کے امن کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا۔پس اس کے بعد کس کی باری ہے یہ نہیں میں کہ سکتا۔پاکستان کی ہے یا شام کی ہے۔پاکستان بھی نیوکلیئر طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔بن چکا ہے یا نہیں۔یہ ایک متنازعہ فیہ مسئلہ ہے لیکن پاکستان کو تباہ کروانے کے لئے کئی ذرائع موجود ہیں۔کشمیر کا مسئلہ ہے سکھوں کا مسئلہ ہے۔ہندوستان کو انگیخت کیا جاسکتا ہے۔چھٹی دی جاسکتی ہے دفاعی امداد اور اقتصادی امداد روک کر اس طرح بے کار اور نہتہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی طاقت کے جواب کی پاکستان میں طاقت نہ رہے۔کئی قسم کے منصوبے ہو سکتے ہیں لیکن خطرہ ضرور ہے شام کو لازماً