خلیج کا بحران — Page 226
کا بحران ۲۲۶ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اور فلسطینیوں اور شرق اردن کی خاطر امریکہ یہود کو ناراض کر لے یہ ہو ہی نہیں سکتا اور دوسرا اس لئے کہ وہاں باہر سے مزید یہود لاکر آباد کروانے کا منصوبہ ایک بڑا دیرینہ منصوبہ ہے جس پر بہت حد تک عملدرآمد ہو چکا ہے اور مستقل یہودی آبادیاں قائم کر لی گئی ہیں اس لئے بھی اگر امریکہ چاہے تو بھی اسرائیلی اس علاقے کو خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کی نوعیت اور اب تک جو اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات ظاہر ہوئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ صدر بش کی مجال نہیں ہے کہ اسرائیل کو ناراض کرنے کی جرات کریں۔جب اسرائیل پر سکڈز کا حملہ ہوا تو صدر بش نے بار بار اسرائیل کے پریذیڈنٹ کو فون کئے اور منت سماجت کی اور اپنے چوٹی کے صاحب اختیار نمائندے وہاں بھجوائے اس بات پر اسرائیل کو آمادہ کرنے کے لئے کہ فوری طور پر اپنا انتقام نہ لو اس واقعہ سے ان کے تعلقات کی نوعیت سب دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے۔چند سکڈز کے نتیجے میں دو بوڑھی عورتیں مری ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ دو تین سو سے زیادہ لوگ زخمی نہیں ہوئے اس کو نہایت ہی ہولناک ، یک طرفہ جارحانہ کارروائی قرار دیا گیا جبکہ اس سے پہلے اسرائیل نے عراق کے ایٹمی توانائی کے پلانٹ کو بغیر کسی نوٹس کے اپنے ہوائی جہازوں کے ذریعے بمبارڈ Bombard کر کے کلیہ برباد کر دیا اور اس حملے کو کسی نے جارحانہ حملہ قرار نہیں دیا۔گویا اسرائیل کو تو یہ حق ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ تم جارحانہ کارروائی کرو اور دوسروں کے ملکوں میں جاکے بمباری کرو، نہ یونائیٹڈ نیشنز کو اعتراض کا اختیار ہے نہ کسی اور ملک کو اور جس پر بمباری کی جاتی ہے اس کو جوابی کاروائی کا بھی اختیار نہیں۔پس اگر اور کچھ نہیں تو سکڈ میزائل کے حملے کو عراق کی جوابی کارروائی قرار دیا جا سکتا ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات بھی اب تسلیم کر لی گئی ہے کہ جوابی کارروائی کا فوراً ہونا ضروری نہیں۔چنانچہ اس مسئلے پر ذرا تھوڑا سا اور غور کریں تو اسرائیل اور امریکن تعلقات خوب کھل کر نظر کے سامنے آجاتے ہیں۔