خلیج کا بحران — Page 218
۲۱۸ ۸ فروری ۱۹۹۱ء مارو۔یہ جنگ کا اصل مقصد تھا ، یہ فیصلہ تھا جو فیصلہ ہو چکا تھا۔جس طرح اس وقت یہ کہا جا رہا ہے بعض مبصرین کی طرف سے کہ دراصل یہ جنگ صدر بش کی انا کے کچلنے کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہے۔اگر چہ یہ درست نہیں ہے۔صدر بش کی انا کا دخل ضرور ہے مگر مقصد ہرگز یہ نہیں تھا لیکن اس زمانے میں Anthony Eden کے متعلق بھی ان کے اس وقت کے فارن سیکرٹری نے اپنی کتاب میں لکھا کہ Anthony Eden کے متعلق یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ اس نے یہ جنگ ناصر کو اس جرم کی سزادینے کے لئے شروع کی ہے کہ Egypt کے ایک کرنیل کی مجال کیا ہے کہ دولت عظمیٰ برطانیہ کے وزیر اعظم کو Defy کرے اور اس کے مقابل پر اس طرح سر بلندی کا مظاہرہ کرے۔بالکل یہی تجزیہ آج بش کے متعلق بعض مبصرین کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے۔تو عملاً یہ ایک قسم کا 1956ء کی جنگ کا اعادہ ہے۔تیل کے مفادات اب ہیں اس وقت سویز کے مفادات تھے اور یہودی شرکت کی بجائے اب امریکن شرکت ہے۔پس اس جنگ میں دراصل وہی تین طاقتیں نمایاں ہیں جو پہلے تھیں۔انگلستان ، فرانس اور یہود لیکن فرق صرف یہ پڑا ہے کہ یہود کی نمائندگی امریکہ نے کی ہے اور وہ پس منظر میں رہا ہے اسے پس منظر میں رکھا گیا ہے۔اب ایک عجیب بات یہ ہے کہ جب مینڈیٹ اختتام کو پہنچا۔یہ مینڈیٹ والا حصہ غالبا میں بیان کر چکا ہوں اس لئے اس کو اس حصے کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی کوشش کریں۔مینڈیٹ جب 48ء کو اختتام کو پہنچا تو انگریزوں نے جس طرح وہاں سے انخلاء کیا اس کی کوئی مثال اور دکھائی نہیں دیتی۔جب انہوں نے ہندوستان کو چھوڑا ہے تو اس وقت با قاعدہ اس بات کی تسلی کر لی گئی تھی کہ با قاعدہ Demarkation Line ہو۔وہ خطے جو دو ملکوں میں تبدیل ہونے والے ہیں ان کے درمیان واضح تقسیم ہو با قاعدہ حکومتیں قائم ہوں لیکن انگلستان نے اپنے چھوڑنے کے آخری دن تک ایسی کوئی کارروائی نہ خود کی ، نہ یونائیٹڈ نیشنز کو کرنے دی اور ساڑھے گیارہ بجے ان کے جہاز سب کچھ پیک کر کے فلسطین سے رخصت ہونے کے لئے روانہ ہوئے اور مینڈیٹ کے عطا کردہ اختیارات کے نتیجے میں برٹش تسلط کی جو حدود تھیں وہ سمندر میں جہاں تھیں مین بارہ بجے وہاں پہنچ کر انہوں نے