خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 376

خلیج کا بحران — Page 217

۲۱۷ ۸ فروری ۱۹۹۱ء Egypt کے پاس کوئی ایسی دفاعی فوج نہیں تھی کہ اس حمل کا مقابلہ کر سکتا اس لئے یہ آنا فانا کامیاب ہونے والا حملہ تھا۔اس کے بعد انگریز اور فرانسیسی دونوں اسرائیل کو اور Egypt کو حکم دیں گے کہ دونوں اپنی اپنی فوجیں نہر سویز سے دور دور تک پیچھے ہٹالیں۔امن کی خاطر ہم دخل دینے لگے ہیں۔چنانچہ یہی ہوا۔آنا فانا اسرائیل کی فوجیں نہر سویز کے کنارے تک پہنچ گئیں اور دوسرے ہی دن انگریزوں اور فرانسیسوں کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوا کہ چونکہ تم دونوں تو میں وہاں لڑ رہی ہو اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے اس لئے ہم حکم دیتے ہیں کہ دونوں اپنی اپنی فوجیں نہر سویز سے اتنی اتنی دور ہٹا لو۔اسرائیل نے اس پر فورا عمل شروع کر دیا جیسا کہ فیصلہ تھا۔Egypt نے کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے ہماری نہر ہے۔ہم اپنے ملک سے کیوں فوجیں ہٹالیں۔یہ کونسی منطق ہے۔حملہ آور نے ہٹا لیں بس کافی ہے۔اس پر پھر ان دونوں قوموں نے مل کر حملہ کیا۔یہ 56ء کا واقعہ ہے اور اس جنگ میں جو انگریزوں نے کردارادا کیا ہے۔اس پر Nutting جو اس وقت فارن سیکرٹری تھے انہوں نے ایک کتاب لکھی اس جنگ کے حالات پر۔اس کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جو طرز عمل انگلستان نے صدر ناصر کے خلاف اور Egypt کے خلاف اختیار کیا بعینہ وہی طرز عمل آج صدر بش صدر صدام اور عراق کے خلاف اختیار کئے ہوئے ہیں۔یوں لگتا ہے جس طرح یہ کاربن کاپی ہے ان حالات کی جواب رونما ہورہے ہیں۔اسی طرح صدر ناصر کے خلاف کردار کشی کی بڑی خطرناک مہم چلائی گئی، اسی طرح یہ کہا گیا کہ ہم عالمی مفادات کے تحفظ کی خاطر عالمی مفادات کی نمائندگی میں یہ کارروائی کر رہے ہیں۔جس طرح کی زبان صدر بش نے صدام کے متعلق استعمال کی ہے کہ میں تو وہ گندے الفاظ پورے استعمال بھی نہیں کر سکتا لیکن یہ تھا کہ لک کر کے اس کو مار کے، پیچھے سے لگ کر کے باہر نکالو۔جو کتاب میں بیان کر رہا ہوں اس کا حوالہ میرے پاس ہے مگر اس وقت سامنے نہیں ہے بہر حال اس میں وہ لکھتے ہیں کہ مقصد اس جنگ کا یہ تھا کہ To Kick Nasir out of his Perch یا ملتے جلتے الفاظ تھے کہ ناصر کو ٹھڈا مار کے جس طرح وہ پرندے شاخ پر بیٹھے ہوتے ہیں کسی جگہ پر اس کے بیٹھنے والی جگہ سے اُڑا کر باہر