خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 376

خلیج کا بحران — Page 188

پاکستان ،ترکی اور شام کا طرز عمل ۱۸۸ یکم فروری ۱۹۹۱ء پاکستان سے تو اس لئے مجھے توقع نہیں تھی کہ وہاں کی حکومت چاہے کتنی ہی امریکن نواز کیوں نہ ہو میں بحیثیت پاکستانی جانتا ہوں کہ پاکستانی عوام اور پاکستانی فوج کا مزاج یہ برداشت ہی نہیں کرسکتا کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کسی مسلمان ملک پر حملہ کریں یا اس حملے کا جواز ثابت کرنے کے لئے ان میں شامل ہو جائیں۔کسی قیمت پر پاکستانی مزاج اس بات کو قبول نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت نے جب پوری طرح اس نہایت ہولناک اقدام کی تائید کی جو عراق کے خلاف اتحاد کے نام پر کیا گیا ہے تو میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہوا ہے اور کیسے ہوا ہے لیکن الحمد للہ کہ دو تین دن پہلے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے اس غلط فہمی کو تو دور کر دیا کہ فوج کی تائید اس فیصلے میں شامل ہے چنانچہ انہوں نے کھلم کھلا اس سے بریت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ہر گز اس فیصلے کو پسند نہیں کرتے۔یہ غلط فیصلہ ہے اور ملت اسلامیہ کے مفاد کے خلاف ہے۔جہاں تک Turkey کا تعلق ہے Turkey تو تمام دنیا میں مسلمان مفادات کے محافظ کے طور پر صدیوں سے اتنا نیک نام پیدا کئے ہوئے ہے کہ اسی نام سے یورپ میں یہ جانا جاتا تھا اور ترکی کی عثمانیہ حکومت سے مغربی طاقتیں بھی کانپتی تھیں اور جب بھی ترکی کا نام آتا تھا تو وہ سمجھتے تھے کہ جب تک یہ سلطنت قائم ہے اسلام کی سرزمین میں نفوذ کا ہمارے لئے کوئی موقعہ پیدا نہیں ہوسکتا، کوئی دور کا بھی امکان نہیں۔چنانچہ اتنی لمبی عظمت کی تاریخ کو ایک فیصلے سے اس طرح سیاہ اور بدزیب بنادینا اور ایسے داغدار کر دینا یہ اتنی بڑی خود کشی ہے کہ تاریخ میں شاید اس کی کوئی مثال نظر نہ آئے۔ترکی قوم پر ایسا داغ لگا دیا گیا ہے جو اب مٹ نہیں سکے گا۔سوائے اس کے کہ کوئی عظیم انقلاب بر پا ہو اور پھر وہ اپنے خون سے اس داغ کو دھونے کی کوشش کریں۔جہاں تک Syria کا تعلق ہے اس کے لئے بھی کئی ایسی وجوہات تھیں جن کی بنا پر مجھے Syria یعنی شام سے ایسی توقع نہیں تھی۔ایک تو حافظ الاسد کا اپنا گولان ہائیٹ (Height) کا علاقہ