خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 376

خلیج کا بحران — Page 172

۱۷۲ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء حق تھا بھی تو حق لینے کا یہ طریق جائزہ بھی ہے یا نہیں؟ یہ سارے سوالات تھے جن پر غور ہونا چاہئے تھا اور عالم اسلام کو مشترکہ طور پر ان پر غور کرنا چاہئے تھا۔سیاسی جنگوں کو غلط طور پر جہاد سمجھنے کی وجہ اس لئے نہ اس لڑائی کو جہاد کہا جا سکتا ہے جو کویت پر حملے کی صورت میں پیدا ہوئی نہ اس لڑائی کو جہاد کہا جاسکتا ہے جو اس کے رد عمل کے طور پر بعد میں عراق کے خلاف لڑی جارہی ہے۔پس خواہ مخواہ جاہلانہ طور پر اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو بے محل استعمال کر کے مسلمان اسلام کی مزید بدنامی کا موجب بنتے ہیں۔ساری دنیا میں اسلام سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور قومیں تمسخر کرتی ہیں اور یہ اپنی بے وقوفی میں سمجھتے ہی نہیں کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں لیکن عوام الناس کے متعلق یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کیوں آخر بار بار اپنے راہنماؤں کے اس دھو کے میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور غیر معمولی قربانیاں ان جنگوں میں پیش کرتے ہیں جو در حقیقت جہاد نہیں۔لیکن انہیں جہاد قرار دیا جارہا ہے۔کوئی گہری اس کی وجہ ہے اس کے اندر در حقیقت کوئی راز ہے جس کو معلوم کرنا چاہئے اور اگر ہم اس راز کو سمجھ جائیں تو یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ مغربی قومیں جہاد کے اس غلط استعمال کی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں اور وہ جو تمسخر کرتی ہیں اور اسلام پر ٹھٹھا کرتی ہیں اگر اس صورتحال کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خود بہت حد تک جہاد کے اس غلط استعمال کی ذمہ دار ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ عالم اسلام پر گزشتہ کئی صدیوں سے یہ بالعموم تاثر ہے، یہ ایک ایسا مبہم سا تاثر ہے جس کی معین پہچان ہر شخص نہیں کر سکتا بعض دفعہ مہم خوف ہوا کرتے ہیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ کہاں سے آرہا ہے کیوں ہے لیکن ایک انسان خوف محسوس کرتا ہے۔بعض دفعہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔لیکن اس کی وجہ نہیں سمجھ رہا ہوتا۔تو انسانی تعلقات میں بعض دفعہ بعض تاثرات انسان کی طبیعت میں گہرے رچ جاتے ہیں، گہرے اثر پذیر ہو جاتے ہیں اور ان تاثرات کی وجہ ایک لمبی تاریخ پر پھیلی ہوتی ہے۔مغرب نے مسلمانوں سے گزشتہ کئی سوسال میں جو سلوک کیا ہے اس سلوک کی تاریخ مسلمانوں کو یہ یقین دلا چکی ہے کہ ان کی مسلمانوں سے نفرت