خلیج کا بحران — Page 131
۱۳۱ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء اقتصادی بائی کاٹ اتنا مکمل ہو کہ کچھ بھی وہاں نہ جا سکے، خوراک نہ جاسکے، ادویہ نہ جاسکیں، کوئی چیز کسی قسم کی وہاں داخل نہ ہو نہ وہاں سے باہر نکل سکے اور ساتھ ہی اس سختی کے ساتھ اس کو نافذ کیا گیا کہ چاروں طرف سے عراق کی ناکہ بندی کر دی گئی بلکہ اردن کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی۔جس کے رستے سے یہ امکان تھا کہ یہ Sanctions توڑ دی جائیں گی یا ان کے کسی حصے میں اس کی خلاف ورزی کی جائے گی۔اس کے علاوہ ساتھ ہی اسرائیل کا اردن کے دریا کے مغربی کنارے پر قبضہ موجود ہے اس پر کوئی Sanctions نہیں لگائی گئیں اور جس قسم کے مظالم اسرائیل نے فلسطینیوں پر توڑے ہیں۔ان کے ذکر میں کوئی آواز اس کے خلاف بلند نہیں کی گئی۔اگر وہی دلیل جو آج عراق کے خلاف دی جارہی ہے وہاں بھی چسپاں کی جاتی تو آج سے بہت پہلے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔پھر جب آپ امریکہ کی تازہ تاریخ پر غور کرتے ہیں تو خود امریکن مصنفین کی لکھی ہوئی تاریخوں سے اور بعض اعداد و شمار پر مشتمل کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے C۔I۔A کے ذریعے آج کے زمانے میں تمام دنیا کے مختلف ممالک میں حسب ضرورت دخل دیا ہے اور Terrorism سے باز نہیں رہے۔کسی قسم کی ظالمانہ کارروائیوں سے باز نہیں رہے اور وہاں اپنا حق سمجھا ہے کہ ہم جو چاہیں وہ کریں۔ابھی حال ہی میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے Secret Wars of President,s Secret Wars’President “ یعنی امریکہ کے پریذیڈنٹ کی خفیہ جنگیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ Covert Operation یعنی مخفی کارروائیوں کی اصطلاح کے نیچے ہر قسم کے ظلم و ستم کی اجازت تھی۔جو چاہو کرو جس کو چاہو قتل کراؤ جہاں چاہو پانیوں میں زہر ملا دو، خوراک کو گندا کر دو ، عام بنی نوع انسان کے قتل عام سے بھی پر ہیز نہ کرو۔جو چاہو کرو مگر مخفی طریق پر ہو اور Deniability کی طاقت موجود رہے یعنی یہ بھی ایک نئی اصطلاح ہے ، بڑی دلچسپ Deniability کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پریذیڈنٹ صاحب باوجود اس کے کہ عملاً ہر چیز کی اجازت دے رہے ہوں لیکن ان کے لئے یہ گنجائش باقی رکھی جائے کہ جب بعض باتوں کا علم ہو اور ان سے سوال کیا جائے کہ بتائیے کیا آپ کے حکم پر ایسا