خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 376

خلیج کا بحران — Page 60

۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء خیالات کے اظہار کا مقصد چنانچہ اسلام کو اس نے بہت ہی ظالمانہ حملوں کا نشانہ بنایا اور خلاصہ کلام یہ تھا کہ آج کی دنیا میں آزادی انسان اور آزادی ضمیر کا اگر کوئی مذہب دشمن ہے تو اسلام دشمن ہے اور آج آزادی ضمیر کا سب سے بڑا خطرہ دنیا میں اسلام سے وابستہ ہے، لاحق ہے۔یہ کہنے کے بعد پھر اُنہوں نے آخر وہ بات کہہ دی جو کہا جاتا ہے کہ آج کل لوگوں کے ذہن میں عام طور پر گھومتی ہے کہ جرمنی کس شکل میں یورپ میں اُبھرے گا۔چنانچہ انہوں نے اُسی تسلسل اور بڑے زور سے یہ بھی کہ دیا کہ جس طرح جرمنی آجکل یورپ کے امن کے لئے ایک نئے خطرے کے طور پر اُبھر رہا ہے اُسی طرح اسلام آزادی ضمیر کے لئے خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔اس پر اس پینل نے جس میں وہ بات کر رہے تھے ایک مشرقی یورپ کے نمائندہ نے بڑی شدت سے ان کی مخالفت کی صرف اس حد تک کہ مثال تم نے غلط دی ہے جیسے اسلام کے معاملے میں تو ہم مان جائیں گے لیکن جرمنی خطرہ نہیں بنے گا اور اس نے کہا کہ میں موجودہ نسلوں کو اچھی طرح جانتا ہوں یہ تو تم محض پروپیگنڈہ کر رہے ہو لیکن یہ پروپیگنڈے کی بات نہیں ہے یہ انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔وہ تو میں جو بنیادی طور پر خود غرض ہوں اور اُن کے انصاف کا تصور قومیت سے وابستہ ہو اور قومیت قومی تصور میں پیوست ہو اُن کے ہاں قومی تصور آپس کے معاملوں میں بدلنے لگتے ہیں۔جب آپس کے مقابلے ہوں گے ایک ملک کے دوسرے ملک سے تو وہاں ویلش تصور اور آئرش تصور اور سکائش تصور اور انگلش تصور یہ سارے مل کر ایک وسیع تر برطانوی تصور کے طور پر اُبھرتے ہیں اور جرمن میں بوار ئین تصور اور دوسرے جرمن تصور کی بجائے ایک وسیع تر جرمن تصور ابھرتا ہے جس میں نہ مشرقی جرمنی کا تصور باقی رہتا نہ مغربی جرمنی کا نہ شمال کا نہ جنوب کا۔تو قومیت رفتہ رفتہ نسل پرستی کا رنگ اختیار کرنے لگتی ہے۔پہلے جغرافیائی حدوں میں پھیلتی ہے اور ایک قوم کی بجائے دو چار قو میں مل کر دوسری دو چار قوموں کے مقابل پر اپنے اڈے بناتی ہیں اور جب ان سب کے مجموعی مفادات باہر کی دنیا سے ٹکراتے ہیں تو یہی قومی تصور نسلی تصور بن جاتا ہے اور White against black سفید فام کا مقابلہ سیاہ فام سے شروع ہو جاتا ہے اور سرخ فام کا مقابلہ زرد فام سے شروع ہو جاتا ہے