خلیج کا بحران — Page 362
۳۶۲ ۱۵ مارچ ۱۹۹۱ء کی صلاحیت رکھتا ہے۔طاقت ور کا شردنیا کی خیر کو مٹا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ تیسری دنیا کی قوموں میں شرنہیں ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ مشرق معزز ہے اور مغرب ذلیل ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اس وقت مغرب میں جو شر پھیلانے کی طاقت ہے ویسی طاقت تاریخ میں کسی قوم کو کبھی عطا نہیں ہوئی اور یہ بات حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ آخری زمانے میں جب دجال ظاہر ہوگا تو اس کا اتنا شر دنیا میں پھیلے گا اور اسے شر پھیلانے کی اتنی طاقت نصیب ہوگی کہ جب سے دنیا بنی ہے خدا کے تمام انبیاء کو دجال کے شر سے ڈرایا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ آئندہ زمانے میں ایک شر پھیلانے والی اتنی بڑی قوم بھی دنیا میں ظاہر ہوگی۔پس کسی عصبیت کے جذبے کی بنا پر نہیں کسی قومی یا نسلی تفریق کی بنا پر نہیں بلکہ خالصہ ان پیشگوئیوں کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے صحیح نشانے کی دعا کریں ورنہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی دعاؤں میں آپ کی نیتوں کا شر شامل ہو چکا ہو۔قومی عصبیتوں کا شر شامل ہو چکا ہو نسلی تفاوت کا شر شامل ہو چکا ہو اور کئی قسم کے ایسے شر ہیں جو مخفی طور پر انسان کی دعاؤں میں لگ جاتے ہیں اور ان کے اندر زہر گھول دیتے ہیں وہ مقبول دعا ئیں نہیں رہتیں۔پس اس تفصیل سے آپ کو سمجھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ محض رونے اور گریہ وزاری سے دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں۔دعاؤں کو اپنی مقبولیت کے لئے ایک خاص پاکیزگی اور صحت چاہئے اور جس رنگ میں آنحضرت ﷺ نے دعائیں مانگیں اور دعائیں سکھائیں وہی رنگ اختیار کریں اور اپنے نفس کو اپنے شہر سے بھی صاف رکھیں اور ہر قسم کے دوسرے شرور سے بھی پاک کریں اور خالصہ اللہ دعا کریں نہ کہ قومی نفرتوں کی بناء پر تو پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں ضرور قبول ہوں گی اور یہ عظیم تاریخی دور جس میں ہم داخل ہوئے ہیں اس کا پلہ بالآخر انشاء اللہ اسلام کے حق میں ہوگا اور اسلام کے غالب آنے کی تقدیر تو بہر حال مقدر ہے یعنی نہ مٹنے والی ائل تقدیر ہے مگر ہماری دعا اور کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اس تقدیر کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھ لیں۔