خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 376

خلیج کا بحران — Page 346

۳۴۶ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کئے جائیں اور اگر تعاون حاصل نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ یہ سب فیصلے ہونے والے ہیں۔اسی طرح اگر یہ محض فلاح و بہبود کے کاموں میں غریب قوموں کی مدد کرنے کا ادارہ ہے تو اس پہلو سے بھی یہ حیثیت واضح اور معین ہونی چاہئے اور سیاست اور رنگ ونسل سے بالا رہ کر غریب قوموں یا آفت زدہ علاقوں کی امداد کا ایسا لائحہ عمل تیار ہونا چاہئے جس کی رو سے اقوام متحدہ کی انتظامیہ آزادنہ فیصلے کر سکے اور آزادانہ تنقید کی اہلیت بھی رکھتی ہو۔یہ سوال بھی لازماً طے ہونا چاہئے کہ اقوام متحدہ کی انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کے فیصلوں کے نفاذ کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے ماننے پر مجبور ہو۔جب تک ان سوالات کا تسلی بخش جواب نہ ہو جس سے غریب اور کمزور قوموں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ملتی ہو یہ ادارہ محض طاقتور قوموں کی اجارہ داری کا ایک پر فریب آلہ کار بنارہے گا۔ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ عدلیہ ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ ایک ایسا غریب ملک جس کی حمایت میں نہ امریکہ ہو ، نہ روس ہو، نہ چین ہو، نہ فرانس ہو، نہ برطانیہ ہو اور اس کے حق میں اگر اقوام متحدہ کوئی بڑا فیصلہ کر دیتی ہے یعنی دو تہائی کی اکثریت سے فیصلہ کر دیتی ہے کہ یہ مظلوم ملک ہے اس کی حمایت ہونی چاہئے تو اس فیصلے کو نافذ کیسے کریں گے؟ وہ کیسی عدلیہ ہے جسے فیصلوں کو نافذ کرنے والی طاقتوں کا تعاون نصیب نہ ہو ، اور تعاون حاصل کرنے کا قطعی ذریعہ اسے میسر نہ ہو۔اس کی مثال تو ویسی ہی ہے کہ جیسے ایک دفعہ جب امریکہ کے ریڈ انڈینز نے امریکہ کی حکومت کے خلاف وہاں کی عدالت عالیہ میں اپیل کی اور یہ مسئلہ وہاں کی سپریم کورٹ کے سامنے رکھا کہ بار بار امریکہ کی حکومت نے ہم سے معاہدے کئے اور بار باران کی خلاف ورزی کی۔بار بار جھوٹےتحفظات دیئے اور بار بار وہ علاقے جن کے متعلق قطعی طور پر تحریری معاہدے تھے کہ یہ ہمارے ہو چکے اور مزید ان میں دخل نہیں دیا جائے گا، دخل دے کر ہم سے خالی کروائے گئے۔اور ہمیں دھکیلتے دھکیلتے یہ ایک ایسی حالت میں لے گئے ہیں کہ جہاں ہماری اب بقا ممکن نہیں رہی۔اب سوال زندہ رہنے یا نہ زندہ رہنے کا ہو گیا ہے۔اس پر امریکہ کی سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔انہوں نے