خلیج کا بحران — Page 334
۳۳۴ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اکثر افریقہ اور ایشیا میں یہ تلخ تجربہ بھی ہوا ہے کہ امداد کے نام پر پہلی Generation کی مشینری مہنگے داموں فروخت کر دی جاتی ہے اور اکثر ایسے کارخانے جدید ٹیکنالوجی والے کارخانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔علاوہ ازیں اور بھی بہت سے عوارض ہیں جو تیسری دنیا کے ممالک کی انڈسٹری کو لگے رہتے ہیں جس سے قرضے اتارنے کی صلاحیت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔تقریباً تمام جنوبی امریکہ اس وقت قرضے کی زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے اور امریکہ یا دیگر امیر ملکوں سے امداد پانے والا ایک ملک بھی میں نے نہیں دیکھا جس کا قرضوں کا بوجھ ہلکا ہورہا ہو یہ تو دن بدن بڑھنے والا بوجھ ہے یہاں تک کہ کثیر قومی آمد قرضوں کا سودا اتارنے پر ہی صرف ہو جاتی ہے۔پس امداد لینے والے اور امداد مانگنے والے ملکوں کو کبھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے دیکھا نہیں گیا۔امداد دینے کے بعد رسوا کن رویہ اور اختلاف کی صورت میں امداد بند کرنے کے طعنے اقتصادیات کے علاوہ قومی کردار کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔پس صرف غیرت ہی کا نہیں بلکہ اور بھی بہت سے دور رس مفادات کا شدید تقاضا ہے کہ بڑے بڑے امداد دینے والے ملکوں کی امداد شکریہ کے ساتھ رد کر دی جائے اور وہ مسلمان ممالک جن کو خدا تعالیٰ نے تیل کی دولت عطا فرمائی ہے ان کو غیر مسلم ممالک کو ساتھ ملا کر جو وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ (المائدہ :۳) پر تیار ہوں۔اسلامی اصول کے تابع ایک نیا امدادی نظام جاری کریں جس میں اولیت اس بات کو دی جائے کہ تیسری دنیا کے وہ غریب ممالک جن پر ہر وقت فاقے اور قحط کی تلوار لٹکی رہتی ہے ان کو جلد تر خوراک میں خود کفیل بنایا جائے یا اقتصادی لحاظ سے اتنا مضبوط کیا جائے کہ اپنے لئے باہر سے خوراک خریدنے کی اہلیت پیدا ہو جائے۔قحط زدہ افریقن ممالک کی طرف دنیا کا موجودہ رویہ انتہائی ذلیل بھی ہے اور غیر موثر بھی۔ملکوں میں قحط اچانک آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کی طرح نمودار نہیں ہوا کرتے کئی سال پہلے سے اقتصادی ماہرین کو علم ہوتا ہے کہ کہاں کب بھوک پڑنے والی ہے پس بڑی بے حسی کے ساتھ انتظار کیا جاتا ہے کہ کب تو میں بھوک سے نڈھال ہو جا ئیں تو ان کو کچھ خوراک مہیا کرنے کے ساتھ انہیں غلامی کے شکنجوں میں جکڑنے کے لئے سیاسی اور نظریاتی