خلیج کا بحران — Page 335
۳۳۵ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء سودے بھی کر لئے جائیں۔پس قرآنی شرطوں کے مطابق آزاد کرنے والی امداد کا نظام جاری کرنا چاہیے نہ کہ غلام بنانے والی امداد کا تیل کے ممالک اگر خدا کی خاطر اور بنی نوع انسان کی خاطر اپنی تیل کی آمد کوزکوۃ یعنی اڑھائی فیصد 2۔5 اس مقصد کے لیے الگ کر دیں تو اکثر غریب ممالک سے بھوک کی لعنت مٹائی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں جاپان کو بھی ساتھ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔تیسری دنیا کے ملکوں کو کھل کر جاپان سے یہ بات طے کرنی چاہئے کہ تم تیسری دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا اپنے آپ کو ایک مغربی ملک شمار کرنے لگے ہو۔اگر تیسری دنیا میں رہنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تیسری دنیا کے مسائل طے کرنے میں ، خصوصاً اقتصادی مسائل طے کرنے میں بھر پور تعاون کرو بلکہ راہنمائی کرو اور قائدانہ کردار ادا کرو۔ورنہ نہ تم ہمارے رہو گے نہ سفید فام قوموں میں شمار کئے جاؤ گے۔مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت اگر ہم اندرونی مسائل کے مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے بات شروع کریں تو کشمیر کے سلسلے میں میں سمجھتا ہوں کہ تین حل ایسے ہیں جن پر غور ہونا چاہئے۔موجودہ صورتحال تو ہر گز قابل قبول نہیں ہے۔اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو دونوں ملک تباہ ہو جائیں گے۔اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور جموں اور کشمیر کو پہلے یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ تم تینوں مل کر اکٹھا رہنا چاہتے ہو یا آزاد کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جائے اور جموں ہندوستان کے ساتھ مل جائے اور وادی کشمیر الگ ہو جائے دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ وادی کشمیر ا لگ آزاد ہو اور یہ دونوں ملک الگ الگ آزادہوں۔جس کو ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں الگ آزاد ہو اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ تینوں مل کر ایک ملک بنا ئیں۔پس تین امکان ہوئے آزاد کشمیر الگ ملک جموں الگ ملک اور وادی کشمیرا الگ ملک۔دوسری صورت تینوں کا ایک ملک اور تیسری صورت یہ کہ آزاد کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جائے۔جموں ہندوستان کے ساتھ ملجائے اور کشمیر ایک الگ ریاست کے طور پر نیا وجود حاصل کرے