خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 376

خلیج کا بحران — Page 331

۳۳۱ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء ہے بلکہ اسرائیل بھی امریکہ کے دست راست کے طور پر یہی کام کر رہا ہے جہاں امریکہ براہ راست نہیں دے سکتا تو اسرائیل کے سپر د کر دیتا ہے اور بعض ایسی جگہیں ہیں جہاں دونوں مل کر اپنے اپنے دائرے میں غلامی کی دوہری زنجیریں پہنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔یادر ہے کہ مغربی ممالک کے فرسودہ اسلحہ کی مارکیٹ ہمیشہ تیسری دنیا کے ملک بنے رہتے ہیں اور جب بھی ہتھیاروں کی کوئی جدید کھیپ تیار ہوتی ہے تو پرانی کھیپ کو کھپانے کے لئے نئی منڈیاں ڈھونڈنی پڑتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض غریب ملکوں میں سروں کی فصلیں پک کر کاٹے جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں کیونکہ غریب ممالک کے آپس کے اختلافات ان ہتھیاروں کی مارکیٹ پیدا کرتے ہیں۔ابھی تو صرف امریکہ کے زائد اسلحہ کی کچھ ڈھیریاں ختم ہوئی ہیں۔روس کے اسلحہ کے پہاڑ بھی ابھی فروخت کے لئے باقی ہیں اور دیگر مغربی ممالک کا بھی اس تجارت میں شامل ہو جانا ہر گز بعید از قیاس نہیں۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ ملٹری ایڈز (Aid) اور Aids میں مشابہت ہے تو یہ ایک لطیفے کی بات نہیں ایک بڑی گہری حقیقت ہے۔Aids کی بیماری جس سے دنیا آج بہت ہی زیادہ خوفزدہ ہے اور جس کے متعلق بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 98-1997 ء تک یہ بڑے پیمانے پر مغربی عیسائی قوموں کو ہلاک کرے گی۔اس کی تفصیل میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں لیکن میں الگ بعض مواقع پر ذکر کر چکا ہوں۔Aids کی بیماری کا تعارف یہ ہے کہ Aids بیماری کے جراثیم انسان کے خون کے اندر نظام دفاعی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور نظام دفاع پر قبضہ کر لیتے ہیں۔پس جس نظام دفاع کو خدا تعالیٰ نے بیماریوں پر قابو پانے کے لئے بنایا تھا وہ خود بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور اپنے خلاف وہ حرکت کر نہیں سکتا پس ملٹری ایڈ بالکل اسی Aids کے مشابہ ہے۔وہاں غیر قومیں ہمار ے غریب ملکوں کے نظام دفاع پر قبضہ کرتی ہیں اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس کا پورا احساس نہیں ہے۔یعنی صحت مند حصوں کو بھی احساس نہیں ہے۔ہمارے ہاں ( ہمارے ہاں سے مراد صرف پاکستان نہیں بلکہ تیسری دنیا کے سب ممالک ہیں انٹیلی جنس کی آنکھیں اندرونی انقلابات کے خطروں