خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 376

خلیج کا بحران — Page 332

۳۳۲ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کی طرف لگی رہتی ہیں۔چنانچہ Counter insurgency measures لئے جاتے ہیں۔ایسی تنظیمیں بنائی جاتی ہیں جو اندرونی بغاوت کے خلاف ہمیشہ مستعد رہیں گی اور Counter Insurgency کے داؤ سیکھنے کے لئے اکثر صورتوں میں امریکہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور بہت سی صورتوں میں اسرائیل کی طرف بھی رجوع کیا جاتا ہے اب آپ دیکھ لیں کہ سری لنکا میں اسرائیل نے ان کو Counter Insurgency کے طریق سکھائے اور باغیوں کو بھی بغاوت کے طریق اسرائیل نے ہی سکھائے۔اسی طرح لائبیریا میں اسرائیل نے ان کو بغاوت کا مقابلہ کرنے کے طریق سکھائے اور اب مبصرین یہ لکھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے لائبیریا کے سربراہ کی حفاظت اتنی عمدگی سے کی کہ بغاوت کی اطلاع تک وہاں نہیں پہنچنے دی اور اس طرح مکمل طور پر ان کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ایسے ملکوں کی List بہت لمبی ہے۔بہت سے اور افریقن ممالک ہیں اور بعض دوسرے ایشیائی ممالک ہیں جن میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اسرائیل بھی ان کو بغاوت کے خلاف طریق کار سکھانے میں سب سے زیادہ پیش پیش ہے اور خطرہ ان سے ہی ہے جو طریق کا رسکھانے آتے ہیں۔ان غریب ملکوں پر ان کی فوجوں کے ذریعے قبضے کئے جاتے ہیں۔پس اگر کوئی ضرورت ہے تو ایسے جاسوسی نظام کی ضرورت ہے جو اس بات کا جائزہ لے کہ مغربی طاقتوں سے یا غیر مغربی طاقتوں سے خواہ کوئی بھی ہوں جہاں جہاں فوج کے روابط ہوئے ہیں وہاں کس قسم کا زہر پیچھے چھوڑا گیا ہے۔کس قسم کے رابطے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ رابطہ کرنے والے جو فوجی ہیں وہ زیر نظر رہنے چاہئیں اور خطرات باہر سے آنے والے ہیں۔اندر سے پیدا ہونے والے خطرات کم ہیں۔اگر بیرونی خطرات کا آپ مقابلہ کر لیں تو اندرونی خطرات کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اندرونی خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں مگر ہمیشہ ظلم کی صورت میں۔ورنہ ناممکن ہے کہ اندرونی طور پر ہماری اپنی فوجوں کو اپنے شہریوں سے کوئی خطرہ لاحق ہو۔یا اپنی سیاست کو اپنے شہریوں سے خطرہ لاحق ہو۔پس یہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے باہر کی قو میں یعنی ترقی یافتہ قومیں