خلیج کا بحران — Page 324
۳۲۴ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء رہا ہے کہ وہ اردن کا مغربی کنارہ خالی کر دے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ سب قصہ ہے۔ایک ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔اگر امریکہ اس بات میں مخلص ہوتا کہ اسرائیل اردن کا مغربی کنارہ خالی کر دے تو صدام حسین کی یہ پہلے دن کی پیش کش قبول کر لیتا کہ ان دونوں مسائل کو ایک دوسرے سے باندھ لو میں کو یت خالی کرتا ہوں تم اسرائیل سے عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کرالو۔خون کا ایک قطرہ بہے بغیر یہ سارے مسائل حل ہو جانے تھے۔پھر اس تیزی سے اسرائیل وہاں یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے اور جو روپیہ اسرائیل کو اس وقت مغربی طاقتوں کی طرف سے دیا گیا ہے اس روپے کا اکثر استعمال اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں روس کے یہودی مہاجرین کو آباد کرانا ہے۔اس لئے عقلاً کوئی وجہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ ایسا واقعہ ہو جائے کہ امریکہ اس دباؤ میں سنجیدہ ہو اور اسرائیل اس بات کو مان جائے۔ایک خطرہ ہے کہ اس کو ایک طرف رکھ کر شام کو یہ مجبور کیا جائے کہ مصر کی طرح تم باہمی دوطرفہ سمجھوتے کے ذریعے اسرائیل سے صلح کر لو۔اگر یہ ہوا تو فلسطینیوں کا عربوں میں نگہداشت کرنے والا اور ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا سوائے عراق اور اردن کے کوئی نہیں رہے گا۔عراق کا جو حال ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔اردن میں پہلے ہی اتنی طاقت نہیں ہے بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل اردن سے ایسی چھیڑ چھاڑ جاری رکھے کہ اس کو بہانہ مل جائے کہ اردن نے چونکہ ہمارے خلاف جارحیت کا نمونہ دکھایا ہے یا ہمارے دشمنوں کی حمایت کی ہے اس لئے ہم اس کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں تو اس نقطہ نگاہ سے مشرق وسطی کی تین قوموں ایران، عراق اور اردن کا اتحاد نہایت ضروری ہے اور اس کے علاوہ دیگر عرب قوموں سے ان کی مفاہمت بہت ضروری ہے۔تا کہ یہ تین نظر کے ایک طرف نہ رہیں بلکہ کسی نہ کسی حد تک دیگر عرب قوموں کی حمایت بھی ان کو حاصل ہو۔ایک اور مسئلہ جو اب اٹھایا جائے گا وہ سعودی عرب کے اور کویت کے تیل سے ان عرب ملکوں کو خیرات دینے کا مسئلہ ہے جو تیل کی دولت سے خالی ہیں۔یہ انتہائی خوفناک خود کشی ہوگی اگر ان ملکوں نے اس طریق پر سعودی عرب اور کویت کی امداد کو قبول کر لیا کہ گویا وہ حق دار تو نہیں ہیں