خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 376

خلیج کا بحران — Page 323

۳۲۳ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء ابھی تک جاری ہے اور اگر یہ کامیاب ہوگئی تو اسی کے نتیجے میں دشمنوں کو دو اہم مقصد حاصل ہو جائیں گے۔اول ایران عرب رقابتیں بڑھنی شروع ہونگی اور دوم شیعہ سنی فساد بھڑک اٹھیں گے اور اب یہ دونوں افتراق پھر دوسرے کئی قسم کے جھگڑوں حتی کہ جنگوں پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔کر دوں کو بھی اسی وقت انگیخت کیا گیا ہے۔کردوں کا مسئلہ اس لئے آگے نہیں بڑھا کہ مغربی قو میں بظاہر انصاف کے نام پر بات کرتی ہیں۔لیکن فی الحقیقت محض اپنے ذاتی مقاصد دیکھتی ہیں۔اس موقعہ پر کردوں کا مسئلہ چھیڑنا ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کرد مسئلے کا تعلق صرف عراق سے نہیں ہے۔کرد مسئلے کا تعلق چار قوموں سے ہے۔ایرانیوں سے ،ہترکوں سے اور روسیوں سے اور عراقیوں سے۔پس اگر انصاف کے نام پر عراق کے خلاف کردوں کو ابھارتے اور ان کی مدد کرتے تو لازماً ترکی کے خلاف بھی ابھارنا پڑتا تھا ورنہ ان کا انصاف کا بھرم ٹوٹ جاتا اور یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہو جاتا اور کر دوں کو انگیخت کرنے کے نتیجے میں ویسے بھی تمام کردوں کے اندر آزادی کی نئی رو چلتی اور مسائل صرف عراق کے لئے پیدا نہیں ہونے تھے بلکہ ایران کے لئے ، ترکی کے لئے اور روس کے لئے بھی پیدا ہونے تھے پس اس وقت خدا کی تقدیر نے وقتی طور پر ان مسائل کو ٹال دیا لیکن نہایت ضروری ہے کہ یہ تمام مسلمانوں قومیں جن کا ان مسائل سے تعلق ہے، فوری طور پر آپس میں سر جوڑیں اور ان مسائل کو مستقل طور پر حل کر لیں۔ورنہ یہ ایک ایسی تلوار کے طور پر ان کے سروں پر لٹکتے رہیں گے جو ایسی تار سے لٹکی ہوئی ہوگی جس کا ایک کنارہ مغربی طاقتوں کی انگلیوں میں پکڑا ہوا ہے یا الجھا ہوا ہے تا کہ جب چاہیں اس کو گرا کر سروں کو زخمی کریں ، جب چاہیں اتار کر سر سے لے کر دل تک چیرتے چلے جائیں۔ان مسائل کے استعمال کا یہ خوفناک احتمال ہمیشہ ان کے سر پر لٹکا رہے گا اور یہی حال دیگر دنیا کے مسائل کا ہے مغربی طاقتیں ہمیشہ بعض موجود مسائل کو جب چاہیں چھیڑتی ہیں اور استعمال کرتی ہیں اور اس طرح تیسری دنیا کی قومیں ایک دوسرے سے لڑ کر ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ایک اور اہم مشورہ ان کے لئے یہ ہے کہ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال