خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 376

خلیج کا بحران — Page 322

۳۲۲ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء پھر ان کو مارا گیا ہے۔اس پر اب فخر کیا جا رہا ہے کہ کتنی عبرتناک شکست دی ہے۔بہر حال یہ باتیں تو ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔اس کے مستقبل میں جو نہایت خوفناک نتائج نکلنے والے ہیں ان سے متعلق جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں مشورہ دے رہا تھا، میں چند اور مشورے عربوں کو بھی دوسرے مسلمانوں کو بھی اور تمام دنیا کی خصوصاً تیسری دنیا کی قوموں کو بھی دینا چاہتا ہوں۔عرب اقوام کے لئے چند قیمتی مشورے عربوں کو فوری طور پر اپنے اندرونی مسائل حل کرنے چاہئیں اور اس اندرونی مسائل کے دائرے میں میں ایران کو بھی شامل کرتا ہوں۔کیونکہ تین ایسے مسائل ہیں جو کہ اگر فوری طور پر حل نہ کئے گئے تو عربوں کو فلسطین کے مسئلے میں کبھی اتفاق نصیب نہیں ہو سکے گا۔ایران کی عربوں کے ساتھ ایک تاریخی رقابت چلی آرہی ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور کویت عراق کی مدد پر مجبور ہو گئے تھے۔اور باوجود اس کے کہ اندرونی طور پر اختلافات تھے لیکن وہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتے کہ ایران ان کے قریب آکر بیٹھ جائے۔دوسرا شیعہ سنی اختلاف کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے میں بھی سعودی عرب حد سے زیادہ الرجک ہے۔وہ شیعہ فروغ کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔تیسرا مسئلہ کردوں کا مسئلہ ہے۔جہاں تک دشمن کی حکمت عملی کا تعلق ہے۔اسرائیل سب سے زیادہ اس بات کا خواہشمند ہے کہ یہ تینوں مسائل بھڑک اٹھیں۔چنانچہ جنگ ابھی دم تو ڑ رہی تھی کہ وہاں عراق کے جنوب میں شیعہ بغاوت کروادی گئی اور شیعہ بغاوت کے نتیجے میں ایران عرب، رقابت کا مسئلہ خود بخود جاگ جانا تھا۔چنانچہ شیعہ علماء نے ایران کی طرف رجوع کیا اور ان سے مدد چاہی۔غالباً سعودی عرب نے اس موقع پر بہت شدید دباؤ ڈالا ہے ( کوئی خبر تو باہر نہیں نکی لیکن منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے ) اور امریکہ کو اس یہودی سازش کا آلہ کار بننے سے روک دیا ہے۔ورنہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایران نے عقل سے کام لیا ہو۔اسی علاقے میں اگلی خوفناک جنگوں کی بنیاد ڈال دی جاتی۔تا ہم دشمن کی طرف سے یہ کوشش