خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 376

خلیج کا بحران — Page 314

۳۱۴ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کی تلقین نہ کی جائے اور سادہ زندگی کی رو نہ چلائی جائے۔مشکل یہ ہے کہ وہاں اونچے اور نیچے طبقے کے درمیان تفریق بڑھتی چلی جا رہی ہے جبکہ جن ملکوں کو آپ سرمایہ دار ممالک کہتے ہیں ان میں وہ تفریق کم ہوتی جارہی ہے اور طرز زندگی ایک دوسرے کے قریب آرہا ہے لیکن آپ ایشیا کے غریب ممالک دیکھئے یا افریقہ کے غریب ممالک دیکھئے یا ساؤتھ امریکہ کے غریب ممالک دیکھئے وہاں دن بدن نیچے کے طبقے کے اوپر کے طبقے کے بود و باش کی طرز میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور خلیج زیادہ سے زیادہ بڑی ہو کر حائل ہوتی چلی جارہی ہے۔پس ضروری ہے کہ یہ طبقاتی تقسیم سے پہلے نصیحت اور تلقین کے ذریعے دور کی جائے اور پھر قوانین کے ذریعے ان فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ تحریک اگر اوپر سے شروع ہوگی تو کامیاب ہوگی ورنہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ارباب حل و عقد یعنی جن کے ہاتھ میں اقتدار کی باگیں ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اوپر سے سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک چلائیں اور سادہ زندگی اختیار کر کے عوام کو دکھا ئیں۔پس اقتصادی استحکام اور ترقی کے سلسلے میں یہ دوسرا اہم اصول پیش نظر رہنا چاہئے کہ غریب ملکوں میں ایک پالیسی نہیں چلائی جاسکتی کہ معیار زندگی کو بڑھایا جائے بلکہ دو پالیسیاں چلانی پڑیں گی غرباء کے معیار زندگی کو بڑھایا جائے اور زیادہ سے زیادہ دولت کا رخ اس طرف موڑا جائے اور امراء کے معیار زندگی کو کم کیا جائے۔یاد رکھیں یہ نکتہ ایک بہت ہی گہرا نکتہ ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے ہر گز اتنے نقصان نہیں پہنچتے جتنے دولت کے غیر منصفانہ خرچ سے پہنچتے ہیں۔وہ امیر لوگ جو اپنے روپے کو فیکٹریاں بنانے اور اقتصادی ترقی کے لئے ہمیشہ جتے رہتے ہیں اور خود سادہ زندگی اختیار کرتے ہیں ان کے خلاف نفرت کی تحریکیں نہیں چل سکتیں کیونکہ وہ عملاً ملک کی خدمت کر رہے ہیں لیکن وہ لوگ جو تھوڑا سکما کر بھی زیادہ خرچ کرنے کے عادی ہو جائیں ان کا سارا اخلاقی نظام ہی تباہ ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دلوں میں وہ آگ بھڑ کانے کا موجب بنتے ہیں۔پس کارخانہ دار تو کم ہیں اور بڑے امیر تاجر بھی کم ہیں لیکن بھاری اکثریت ایسے تنعم پسند ملکوں کی ان افسروں پر مشتمل ہوتی ہے جو رشوت لیتے ہیں اور رشوت کو عام کرتے ہیں اور ان سیاستدانوں پر