خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 376

خلیج کا بحران — Page 302

۳۰۲ یکم مارچ ۱۹۹۱ء نہ عالم اسلام دنیا کو عدل عطا کر سکتا ہے نہ دنیا سے عدل کی توقع رکھ سکتا ہے۔اس ضمن میں ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام میں نہایت ہی خوفناک ایسی باتیں رائج ہیں جو اسلام کے ساتھ بے وفائی کا حکم رکھتی ہیں اور بجائے اس کے کہ اسلام کی عادلانہ تعلیم کو سمجھیں اور قبول کریں ، اسلام کو دنیا کے سامنے ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا عدل کے ساتھ کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں۔اس میں سب سے بڑا قصور ملاں اور سیاستدان کا ہے ان دونوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اسلام کے نظام عدل کو تباہ کیا جا رہا ہے تین ایسے نظریات اسلام کی طرف منسوب کر کے پیش کئے جار ہے ہیں کہ جن کے نتیجے میں بیرونی دنیا میں اسلام کی تصویر ظالمانہ طور پر مسخ ہو کر پیش ہورہی ہے اور ہر اسلامی ملک سے بھی امن اٹھتا چلا جارہا ہے۔پہلا نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تلوار کا استعمال نظریات کی تشہیر میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے اور تلوار کے زور سے نظریات کو تبدیل کر دینے کا نام اسلامی جہاد ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حق صرف مسلمانوں کو ہے۔عیسائیوں یا یہود یا ہندوؤں یا بدھوں کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کے نظریے کو بزور تبدیل کریں لیکن خدا نے یہ حق سارے کا سارا مسلمانوں کے سپر دکر رکھا ہے۔کیسا غیر عادلانہ، کیسا جاہلانہ تصور ہے لیکن اسے اسلام کے نام پر ساری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔پھر دوسرا جزو اس کا یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو جائے تو کسی کا حق نہیں کہ اسے موت کی سزا دے۔تمام دنیا میں جہاں کوئی چاہے اپنے دین کو چھوڑ چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوتا رہے دنیا کے کسی مذہب کے ماننے والوں کو حق نہیں کہ اسے موت کی سزا دیں لیکن اگر کوئی مسلمان دوسرا مذہب اختیار کرلے تو دنیا کے ہر مسلمان کا حق ہے کہ اس کی گردن اڑا دے۔یہ اسلام کا دوسرا منصفانہ اصول ہے جو اسلام کے علمبر دار خدا اور قرآن کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔تیسرا اصول یہ ہے کہ مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ شریعت اسلامیہ کو زبردستی ان شہریوں پر بھی نافذ کریں جو اسلام پر ایمان نہیں لاتے لیکن دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی اپنی شریعت مسلمانوں پر نافذ کریں۔چنانچہ اس نظریہ عدل کی رو سے یہود کو بھی یہ حق نہیں کہ مسلمانوں سے طالمود