خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 376

خلیج کا بحران — Page 284

۲۸۴ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء چھٹا ہفتہ ہو گیا ہے اور ابھی تک عراق کی کمر نہیں توڑ سکے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دنیا بدل چکی ہے۔یہ زمانے وہ نہیں رہے۔اب انسان کی خودی کا تصور بلند ہو رہا ہے۔اس کو ہوش آ رہی ہے۔آزادی کی لہریں چل رہی ہیں خدا کی تقدیر دنیا کے رجحانات تبدیل کر رہی ہے۔اب جھوٹے خداؤں کے دن نہیں رہے ان کی صفیں لپیٹنے کے دن آچکے ہیں اور ان کو یہ دکھائی نہیں دے رہا۔ظلم پر ظلم کرتے چلے جارہے ہیں اور یہ نہیں سوچ رہے کہ ان کی کیا تصویر دنیا میں بن رہی ہے اور آئندہ تاریخ میں کیا بنے گی۔آج یہ صدام حسین کو ہٹلر اور ظالم اور سفاک کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔اگر ساری باتیں بھی تسلیم کرلی جائیں تو ویٹنام میں انہوں نے جو مظالم کئے ہیں وہ سارے مظالم صدام حسین کے مظالم کے مقابل پر اس طرح ہیں جس طرح رائی کے مقابل پر ایک پہاڑ ہو۔صدام حسین کے جتنے فرضی مظالم جو بیان کئے جاتے ہیں اگر فرض کریں سارے بیچ ہوں تو ان مظالم کے مقابل پر اُن کو کوئی بھی حیثیت نہیں جو امریکہ نے ساڑھے آٹھ سال تک ویٹنام پر کئے ہیں اور کوئی حق نہیں تھا۔تمہارا کام کیا ہے کسی اور ملک پر جا کر بمباریاں شروع کر دینا اور اس ملک کے ایک حصے کی لڑائی میں اس کا شریک بن کر دوسرے ملک کے انسانوں پر بر بریت کی انتہا کر دینا۔وہ تفصیل اگر آپ پڑھیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔آپ کا سارا وجود کانپنے لگے۔اتنے خوفناک مظالم ہیں لیکن اس سے بڑا ظلم یہ کہ آج تک یہ وینا میز کی کردارکشی کرتے چلے جارہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے جن شہروں پر دوبارہ قبضہ کیا تو وہاں ہماری تائید کرنے والوں کو انہوں نے اسی طرح ہلاک کیا، اس طرح ظلم کئے۔وہاں سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کی اکٹھی قبریں ہیں۔جنگ میں جو غداری کرتا ہے اور اتنی ظالمانہ جنگ اور یک طرفہ جنگ میں ، اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے دنیا کا کونسا قانون ہے جو غدار کی جان کی ضمانت دیتا ہے اور یہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے ان کی حمایت کی تھی۔پس ان مظالم کے نقشے کھینچتے ہیں اور وہ جو دوسرے مظالم ساڑھے آٹھ سال تک یک طرفہ کرتے چلے گئے ان کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو امریکہ کو خوفناک نفسیاتی بیماری لگ چکی ہے یہ آج دنیا کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس