خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 376

خلیج کا بحران — Page 274

۲۷۴ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء آبادی بڑھاتے ہیں۔یہ ان کا طریق ہے اور وہ فلسطینی جو اس سرز مین پر سینکڑوں سال سے قابض تھے۔وہیں پیدا ہوئے ، وہیں کی مٹی میں پہلے اور بنے اور بڑے ہوئے ان فلسطینیوں کو وہاں رہنے کا کوئی حق نہیں کہتے ہیں تمہارا کوئی ملک نہیں ، تمہارا کوئی وجود نہیں ہم تمہیں تسلیم نہیں کرتے۔سوال یہ ہے کہ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ کس برتے پر کس خیال سے ، کس حکمت عملی کے نتیجے میں یہودیوں سے اپنے معاشقے کو قائم رکھے ہوئے ہے اور جس طرح ہمارے محاورے میں سانڈ چھوڑنا کہتے ہیں اس طرح عربوں کے کھیتوں میں ایک سانڈ چھوڑا ہوا ہے۔عام کھیتوں میں جو سانڈ چھوڑے جاتے ہیں وہ تو سبزیاں کھاتے ہیں ، یہ ایک ایسا سانڈ ہے جو خون پی کر پاتا ہے اور گوشت کھا کر بڑھتا ہے اور کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ایک ریزولیوشن کی باتیں آپ نے بہت سنی ہیں کہ عراق جب تک اس ریزولیوشن پر عمل نہ کرے ہم عراق کو مارتے چلے جائیں گے اور برباد کرتے چلے جائیں گے اور اس کو کویت سے نکالنے کے باوجود بھی اس وقت تک ہم اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ یہ امکان نہ مٹ جائے ، یہ احتمال ہمیشہ کے لئے نہ مٹ جائے کہ بیسیوں سال تک کبھی عراق کی سرزمین سے کوئی شخص سر اٹھا سکے۔اس کے مقابل پر اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں جب بھی سیکیورٹی کونسل میں ریزولیوشنز پیش ہوئے کہ ان کا رروائیوں کو روکا جائے یا ان کا رخ موڑا جائے تو ہمیشہ امریکہ نے ان ریزولیوشنز کو ویٹو کیا۔27 مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ سیکیورٹی کونسل میں اسرائیل کو ظالم قرار دیتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا گیا کہ تم عرب علاقے خالی کرو اور ظلم سے ہاتھ کھینچو اور 27 مرتبہ United States کے نمائندے نے اس کو ویٹو کر دیا اور United States کی ویٹو اکثر صورتوں میں اکیلی تھی جب کہ دوسری ویٹو کی تاریخ کا میں نے مطالعہ کیا ہے اس میں اکثر صورتوں میں دوتین دوسرے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن باقی سب کے مقابل پر United States اکیلا اسرائیل کا حمایتی بن کران ریزولیوشنز کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرتا رہا۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ ریزولیوشنز کتے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ اسرائیل کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیل کو متوجہ کیا گیا کہ تم ظلم سے باز آؤ