خلیج کا بحران — Page 268
۲۶۸ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء جس نہیں ہے۔کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو انصاف کے ساتھ اسرائیل کو مخاطب کر کے کہے کہ آج تم نے انسانی ظلموں کی تاریخ میں ایسے ابواب کا اضافہ کیا ہے جس سے انسانی ظلموں کی تاریخ کو شرم آتی ہے لیکن ان سب ظلموں سے چشم پوشی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کی بہت سی مثالیں ساتھ ہیں لیکن وقت کی رعایت سے میں ان کو پڑھ نہیں سکتا۔اگر موقعہ ہوا تو بعد میں چھپ جائیں گی۔وحشت و بربریت کی تاریخ میں اسرائیل کی طرف سے جو سیاہ ترین باب ہے اس کا اضافہ 1982ء میں ہوا۔انہوں نے لبنان پر حملے کا ایک منصوبہ بنایا، جس کا نام رکھا تھا Operation peace for Galilee یعنی گیلیلی کی بستی کے لئے امن کے تحفظ کا منصوبہ۔اس ضمن میں David Gilmour اپنی کتاب Dispossessed میں جو نقشہ کھینچتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے گیلیلی سے متعلق جو یہ منصوبہ بنایا، امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اس منصوبے کے لئے یہ بہانہ پیش کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے تحفظ کے لئے لبنان کے جنوب سے فلسطینیوں کے حملے کی روک تھام کی خاطر اور ان کے مسلسل حملوں سے تنگ آکر یہ منصوبہ بنایا۔مصنف لکھتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جولائی 1981ء میں فلسطینیوں کا اور اسرائیلیوں کا ایک امن کا معاہدہ ہوا Gilmour لکھتا ہے کہ جولائی 1981ء سے لے کرمئی 1982 ء تک جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا ہے اس وقت تک فلسطینیوں سے اس معاہدے کی ایک بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔اس تمام عرصہ میں کسی فلسطینی نے اسرائیل پر لبنان سے کوئی حملہ نہیں کیا دوسرے وہ کہتا ہے کہ گلیل کو لبنان کی طرف سے کبھی بھی کوئی خطرہ در پیش نہیں ہوا۔تیسرے وہ کہتا ہے کہ 1982ء سے بہت پہلے وہ ان کے حوالوں سے ثابت کرتا ہے کہ یہ منصوبہ تیار تھا اس لئے بعد میں جو فرضی بہانے گھڑ رہے ہیں ان کی اس لحاظ سے بھی کوئی حقیقت نہیں کہ ان بہانوں کی جو تاریخیں ہیں ان سے بہت پہلے ثابت شدہ حقیقت ہے کہ یہ منصوبہ بنا چکے تھے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ 1982ء میں جبکہ بیروت پر بمباری شروع کی گئی تو وہ بمباری اتنی خوفناک تھی کہ دن رات ان کی تو ہیں بیروت سے باہر مسلسل ان پر گولے برسا رہی تھیں اور سمندر سے ان کے جہاز جن پر بہت ہی خوفناک تو پہیں تھیں ان تو پوں سے ان پر آگ برسا رہے تھے۔دن رات