خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 376

خلیج کا بحران — Page 267

۲۶۷ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء نام صدام کو اور فلسطین کو خود اسرائیلیوں نے دیا ہوا ہے۔ہٹلر کے نام پر یہ ہٹلر پال رہے ہیں اور ابھی آئندہ اگر یہ سمجھے نہیں تو ان کی آنے والی تاریخ بتائے گی کہ اسرائیل کے کیا ارادے ہیں اور ان کے ساتھ خوداسرائیل کیا سلوک کرنے والا ہے۔اس پس منظر میں جب مسلمان یہ دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ظلم پر ظلم کرتا چلا جارہا ہے اور اس کی حمایت پر حمایت ہوتی چلی جارہی ہے تو وہ حیران رہ جاتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے ہو کیا رہا ہے؟ اسرائیل کی طرف سے بار بار مسلمانوں کے Terrorism کے ذکر ہوئے ہیں اور ساری مغربی دنیا میں آپ کی آنکھیں یہ پڑھتے پڑھتے تھک چکی ہوں گی کہ مسلمان Terrorist ہیں اور مسلمان فلسطینی Terrorist اور مسلمان Terrorist اور مسلمان Terrorist اور Terrorist ہیں اور فلاں Terrorist اسلام اور Terrorism کو یک جان ، ایک قالب بنا کر دکھایا گیا ہے۔ایک ہی جان اور ایک ہی وجود کے دو نام ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل Terrorist کا بانی مبانی ہے اس سلسلے میں گزشتہ خطبے میں میں نے شاید چند مثالیں پیش کی تھیں۔اب میں بہت مختصر ا آپ کو بتاتا ہوں کہ اسرائیل کی طرف سے Terrorism کے جو خوفناک واقعات ہو چکے ہیں۔ان پر آج تک عربوں کی تباہ شدہ بستیاں دیر یاسین، یافہ طیبہ، مغربی بیروت ، صابرا اور شانیلا کے کھنڈرات گواہ ہیں۔اتنے ہولناک مظالم ان بستیوں پر کئے گئے کہ مردوں،عورتوں ، بوڑھوں ، بچوں کو دن دھاڑے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذبح کیا گیا اور بڑے ظلم اور سفا کی کے ساتھ نیزوں میں پرویا گیا اور دوسرے طریقوں سے ہلاک کیا گیا اور ایک ذی روح کو وہاں زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ہزار ہا اگر نہیں تو سینکڑوں ایسی بستیاں ہیں جنہیں کلیۂ خاک سے ملا دیا گیا۔کوئی ایک عمارت بھی کھڑی نہیں چھوڑی گئی۔صرف 77ء کے ایک حملے کے دوران اڑھائی لاکھ فلسطینی بے گھر کئے گئے اور یہ سارے امور ایسے ہیں جن کے متعلق مغرب خاموش ہے اور آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔پس عرب ہوں یا دوسرے مسلمان ہوں، وہ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیوں ایک طرف سے ظلموں کے انبار کھڑے کئے جارہے ہیں ،طوفان مچائے جارہے ہیں اور مقابل پر کوئی