خلیج کا بحران — Page 257
۲۵۷ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء والے وہ لارڈ تھے ) جنہوں نے آغا ز کیا ہے اور جب انہوں نے اپنی مہم شروع کی اور فرانس کے دوسرے بادشاہوں نے مل کر پہلی Crusade کا انتظام کیا تو انہوں نے کہا کہ اتنے عظیم مقصد کے لئے کوئی صدقہ بھی تو دینا چاہئے۔چنانچہ Godfrey of Bouillon کو یہ خیال آیا کہ سب سے اچھا صدقہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا انتقام لیا جائے اور تمام یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا جائے۔پس جس طرح مسلمانوں میں قربانی کا رواج ہے کہ بڑی بڑی مصیبتوں پر یا امورمہمہ میں پیش قدمی کرتے ہوئے پہلے کچھ صدقے دیتے ہیں اسی طرح اس عظیم مہم پر جانے سے پہلے انہوں نے نہ صرف یہ سوچا بلکہ واقعہ فرانس میں اس طرح ظالمانہ قتل عام کروایا ہے یہود کا کہ اس طرح تاریخ میں کم ہی کسی نہتی قوم پر ایسا ظلم ہوا ہوگا اور یہ صلیبی جنگ کا صدقہ تھا۔اس کے بعد سے یہ رواج بن گیا اور دوسوسال تک کے صلیبی جنگوں کے عرصے میں ہر جنگ میں جانے سے پہلے یہود صدقہ کئے جاتے تھے۔تو جہاں تک ظلم کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے۔پھر رد بلاء کے طور پر بھی صدقہ دیا جاتا ہے اس میں بھی یہود کو ہی صدقہ کیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نے Black Death کا نام سنا ہوگا جو 1347 ء سے 1352 ء تک ( یعنی چودھویں صدی کے وسط میں ) یورپ میں پھیلی تھی جو ایک نہایت ہی خوفناک طاعون کی وباتھی چین سے آئی اور رفتہ رفتہ مشرقی یورپ سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچی۔اس وبا میں رد بلاء کے طور پر انہوں نے یہود کا صدقہ شروع کیا اور بہت سی جھوٹی کہانیاں بھی ان کے خلاف گھڑی گئیں کہ یہ ان کی نحوست ہے اور ساری بلاء جو ہم پر وارد ہو رہی ہے یہ یہود کی خباثت اور نحوست کی وجہ سے ہے اس لئے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اگر ہم نحوست کو تباہ کریں تو اس سے ہماری بلائیں ٹل جائیں گی۔چنانچہ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہ ان گنت تعداد ہے بیان نہیں کی جاسکتی معین اعداد و شمار نہیں کہ کتنی تعداد میں یہود کو قتل کیا گیا یا زندہ اپنے گھروں میں آگ میں جلایا گیا جو موٹے اعداد وشمار ہیں وہ یہ ہیں کہ ساٹھ بڑی بستیوں سے یعنی ساٹھ شہروں سے یہود کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔اور ایک سو چالیس چھوٹی بستیوں سے یہود کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔یہ دوسرا انتقام ہے یہود سے عیسائی دنیا کا۔