خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 376

خلیج کا بحران — Page 250

۲۵۰ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء شکار ہے اور لکھوکھا کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے ،عورتیں ، بوڑھے مرد ، جوان ، سب پنجر بن بن کر دکھ اٹھا اٹھا کر مرتے چلے جارہے ہیں اور ان کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔اب جنگی اخراجات کا آپ نے اندازہ سن لیا ہے۔ساڑھے پانچ سواس کی تعمیر نو پر خرچ اور اس سے پہلے سوبلین کے قریب دوسرے اخراجات اور 200 بلین دنیا کے نقصانات تو یہ ساری بات مل کر بالآخر ہزار بلین کا نسخہ ہے اس کے مقابل پر آج بچھپیں ملین افریقن بھوک کے نتیجے میں مرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور یہ یونائیٹڈ نیشنز کا تخمینہ ہے۔اگر ایک افریقن کو خوراک مہیا کرنے پر روزانہ دوڈالر خرچ آئیں تو پچپیس ملین افریقن کو ایک سال کے لئے بھوک سے بچانے کے لئے صرف تقریباً ڈیڑھ بلین ڈالر چاہئے ایک بلین چھیاسٹھ لاکھ کچھ چاہئے۔تو آپ اندازہ کریں کہ وہ لوگ جو چھپیں ملین انسانوں پر رحم نہیں کھاتے جو عراق کے سولہ ملین انسانوں پر دولت کے پہاڑ خرچ کر کےموت برسارہے ہیں۔ان کو ہمدردی ہے تو دو مرغابیوں سے ہے اور شور مچایا ہوا ہے کہ یہ چند مرغابیاں مر جائیں گی محض جھوٹ محض فسادانسانی ہمدردی کا کوئی شائبہ بھی ان کے اندر ہوتا تو پہلے انسانی جانوں کی قدر کرتے۔دنیا میں بھوک سے مرنے والے غریب افریقنوں کی اور دیگر قوموں کی فکر کرتے اور اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے کی کوشش کرتے اس سے آپ کو پتہ لگے گا کہ ایک بلین ہوتا کیا ہے۔پچپیس ملین کا مطلب ہے اڑھائی کروڑ۔اڑھائی کروڑ انسان پورا ایک سال عزت کے ساتھ روٹی کھا سکتا ہے تقریباً ڈیڑھ بلین میں اور یہ ایک بلین روزانہ جو یہ موت برسانے پر خرچ کر رہے ہیں اور ایک بلین نو مہینے زندگی بخشنے کے لئے خرچ نہیں کر سکتے اور وہ بھی پچپیس ملین آدمیوں کی زندگی۔مجھے اس پر یاد آ گیا وہ قصہ۔ایک دفعہ چرچل نے جارج لائیڈ کے پاس ایڈورڈ گرے کی سفارش کرتے ہوئے ان کی تائید میں کہا کہ آپ ان کی پوری بات نہیں سمجھ رہے۔ان کا کوئی قصور تھا وہ ناراض تھے بڑے سخت گرم تھے ان کے خلاف تو چرچل نے کہا کہ دیکھیں وہ ایسا انسان ہے ایڈورڈ گرے کہ اگر کوئی Natsi اس کے پاس آئے اور کہے کہ تم اگر اس پر دستخط کر دو جو میں تجویز پیش کرتا ہوں تو اس کے بدلے میں تمہاری سب بات مان لوں گا، یہ کروں گا، وہ کروں گا تمہاری جان بخشی