خلیج کا بحران — Page 249
۲۴۹ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء نو تعمیر کرنے پر لگے گا اور یہ اندازہ آج سے پانچ ، سات دن پہلے کا ہے اور اندازہ لگانے والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ عراق پر اس سے کم سے کم دس گنا زیادہ خرچ ہو گا اور جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ سو بلین ڈالر عراق کو اپنے آپ کو بحال کرنے کے لئے درکار ہو گا۔تو جنگ پر جو اخراجات ہورہے ہیں یا رشوت پر ہورہے ہیں ان کے علاوہ یہ اخراجات غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ جو جانوں کی تلفی ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ بنی نوع انسان کو تکلیف پہنچی ہے وہ سب اس کے سوا ہے۔تیسری دنیا کو جو اقتصادی نقصان پہنچا ہے وہ بھی سردست 200 بلین کا اندازہ لگایا گیا ہے جو مبصرین کہتے ہیں کہ آگے زیادہ ہو گا کم نہیں ہوگا یعنی اب تک 200 بلین کا نقصان تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو ہو چکا ہے۔اب یہ جو حصہ ہے اس سلسلے میں ایک نقصان فضا میں آلودگی کا نقصان ہے اور سمندر میں آلودگی کا نقصان ہے جو سمندر میں آلودگی شروع ہوئی تو ایک امریکن جرنیل نے اعتراف کیا اور فخر سے اعتراف کیا کہ ہم نے تیل کے چشموں پر کامیابی سے Hit ہٹ کیا ہے اور تیل بہنا شروع ہو گیا ہے اور دوسرے دن ہی وہ ساری کہانی بدل گئی اور کثرت سے پھر بار بار عراق پر الزام لگا کر عراق کو متہم کیا گیا کہ یہ ایسی ظالم قوم ہے کہ پرندوں تک کو نہیں چھوڑا انہوں نے ظلم میں اور وہ جو Coots اور Cormorant اور کچھ اور مرغابیوں قسم کے جانور، بعض تو ایسے تھے جو بار بار وہی دکھاتے تھے تیل میں ڈوبے ہوئے اور یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس سے ان لوگوں کی ، صدام حسین کی سفا کی ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے چھوٹے چھوٹے جانوروں تک کو بھی اپنے ظلم سے الگ نہیں رہنے دیا، باہر نہیں رکھا۔اس نقصان کے مقابل پر جس سے یہ اپنی انسانی ہمدردی اور زندگی سے ہمدردی ثابت کرتے ہیں دنیا پر ان کا دنیا کی تکلیفوں سے متعلق جو رویہ ہے وہ میں آپ پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ سب دجل ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لفظ دجال میں اس زمانے کی ساری تاریخ اپنی تمام تفاصیل سے بیان فرما دی۔ایسا خوفناک دجل ہے کہ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہ سالہا سال سے افریقہ بھوک کا