خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 376

خلیج کا بحران — Page 213

ج کا بحران مفادات کی جنگیں ۲۱۳ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اس علاقے میں دو قسم کی جنگیں لڑی گئی ہیں۔یا دو قسم کی کارروائیاں کی گی ہیں۔ایک مغربی مفادات کے تحفظ کی خاطر بین الاقوامی مفادات کے نام پر کارروائیاں کی گئیں۔کہا یہ گیا کہ یہ بین الاقوامی مفادات ہیں جن کی خاطر ہم یہ کرتے ہیں اور کھلم کھلا مغربی تحفظات تھے۔ان میں سب سے زیادہ اہم کردار انگلستان نے اور فرانس نے ادا کیا اور امریکہ ہمیشہ ان کے ساتھ شامل رہا۔مفادات کی پہلی کارروائی ایران کے خلاف ہوئی ہے۔1950ء میں ایران کی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارے تیل کی دولت سے متعلق جو بیرونی دنیا کی لالچ اور دخل اندازی کے ارادے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ ہم یہ کرتے ہیں کہ ایران کے شمالی حصے کے تیل کے چشموں پر روس کے دخل کی پیشکش کو رد کر دیا جائے یعنی الفاظ پوری طرح شاید بات واضح نہیں کر سکے مراد یہ ہے کہ روس نے ایک پیش کش کی تھی کہ جس طرح (British Iranian oil Company) برٹش ایرانین آئل کمپنی کو تم نے اپنے جنوبی حصے میں تیل کے چشموں سے استفادے کی اجازت دی ہوئی ہے اور تمہارے ساتھ سمجھوتے کے ساتھ وہ تمہاری خاطر بظاہر تیل نکال رہے ہیں اور اپنے فائدے اٹھارہے ہیں ہمیں بھی اجازت دو۔تو انہوں نے کہا روس کو شمالی حصے میں دخل کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دوسرا یہ فیصلہ کیا کہ برٹش ایرینین آئل کمپنی سے ہم اپنے معاہدے کو وقتا فوقتا زیر نظر لاتے رہیں گے اور آئندہ اس معاہدے پر نظر ثانی 1951ء میں ہوگی 50 ء کے اس فیصلے پر امریکہ میں فتح کے خوب شادیانے بجائے گئے اور امریکی حکومت نے اس کو بڑا سراہا کیونکہ اس کی نظر اس وقت روس کے خلاف فیصلے پر رہی لیکن 1951ء میں جب برٹش ایرانین آئل کمپنی کے ساتھ معاہدے پر نظر ثانی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہو رہا تھا تو برٹش ایرانین آئل کمپنیکی اتنی بڑی طاقت تھی کہ امریکہ یا خود انگریزوں کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہماری مرضی کے خلاف اس معاہدے میں جو اسیر نین آئل کمپنی اور حکومت کے درمیان تھا کوئی ردو بدل کر دیا جائے گا۔برٹش ایرانین آئل کمپنی کی طاقت کا اندازہ